جہلم میں تجاوزات کے خاتمہ کے آپریشن پر مٹی ڈال دی گئی، شہر دوبارہ تجاوزات کی زد میں

جہلم: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کے باوجود جہلم شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کو عملاً نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل شہر کے مختلف بازاروں اور شاہراہوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے تسلسل سے کارروائیاں جاری تھیں، مگر اب وہ اقدامات محض کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
شہریوں کے مطابق اندرون شہر کے مین بازار، چوک اہلحدیث، شاندار چوک، سول لائن روڈ، قبرستان چوک، محمدی چوک، مرغی بازار، جادہ، روہتاس روڈ، چوک کالا گجراں، چونترہ، کھرالہ روڈ، ڈھوک جمعہ روڈ، اولڈ جی ٹی روڈ اور جی ٹی ایس چوک تا ریلوے پل سمیت دیگر مقامات پر دکانداروں نے دوبارہ سڑکوں کے اطراف میں تجاوزات قائم کر لی ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ نادیدہ قوتوں کی مداخلت کے باعث انسداد تجاوزات کی مہم کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بااثر دکاندار اپنی دکانوں سے کئی کئی فٹ باہر تک سامان سجا کر نہ صرف راہگیروں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کا انسداد تجاوزات عملہ اب خاموش تماشائی بن چکا ہے اور دفاتر کے ٹھنڈے کمروں تک محدود ہو گیا ہے۔ شہر کے متعدد اہم مقامات پر تجاوزات بلا خوف و خطر قائم ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنائیں اور انسداد تجاوزات کے عمل کو مؤثر، مستقل اور غیر جانبدارانہ بنایا جائے تاکہ عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو۔



