یوم مئی اور پاکستان کا بایاں بازو

پرندہ جب اڑان کی ٹھان لے تو ہوا بھی رخ بدل دیتی ہے۔ آج اپنے تاریخی کالم کی ابتدا معروف صوفی بزرگ مولانا جلال الدین رومی کے ایک قول سے کر رہا ہوں کیونکہ آج پاکستان میں سرکاری سطح پر منائے جانے والے 53ویں اور عالمی سطح پر 141ویں یوم مئی کے موقع پر اپنا کالم پاکستان کے بائیں بازو کے نام کرنے کی قلمی جسارت کر رہا ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں 1947ء کے بعد درپردہ تو شاید ہر سال یوم مئی کی تقریبات منعقد ہوتی رہی ہوں گی، لیکن یہ اعزاز اصل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سر جاتا ہے جس نے 1972ء میں پہلی مرتبہ سرکاری طور پر یوم مئی کو مزدور محنت کش طبقے کی شمولیت کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔

گزشتہ سال "مجھے یاد ہے وہ ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو” کالم نگار نے اپنا عنوان پاکستانی محنت کش طبقے کے نام کیا تھا کیونکہ مقصد تھا کہ محنت کش طبقے کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جائے کہ اصل محنت کش کون ہے، کیونکہ روایتی اعتبار سے ہتھوڑے اور درانتی کے ساتھ کام کرنے والے فرد کو محنت کش مانا جاتا ہے، جو کہ آج کے تقاضوں میں شاید کافی نہیں ہے۔ اس لیے ایک سال قبل معاصر ہذا (جہلم اپڈیٹس ڈاٹ کام) کی زینت بننے والے مضمون کا مرکزی خیال محنت کش طبقہ ہی تھا۔

اس مرتبہ خواہش ہے کہ ترجیحات کو تبدیل کرتے ہوئے مضمون کا مرکزی خیال پاکستان کے بائیں بازو کو بنایا جائے، کیونکہ یہ بات تو تاریخی حقیقت ہے کہ یہ واقعہ 1886ء کا ہے جب امریکہ کے شہر شکاگو میں فولاد کے کارخانوں میں محنت کرنے والے مزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا۔ یعنی 140 سال قبل پہلی مرتبہ امریکہ کے شہر شکاگو کے فولاد کے کارخانوں کو چلانے والے مزدوروں نے یومیہ 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے مطالبے کی حمایت کی۔

یاد رہے کہ اس احتجاج میں 70 ہزار مزدوروں نے شرکت کی، جبکہ دو سال بعد 1886ء میں جب محنت کشوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کیا، تو شرکاء کی تعداد 7 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ 4 مئی 1886ء کو جب مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا، تو پولیس نے ان مزدوروں پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک جب کہ دو مزدور زخمی ہو گئے۔ 4 مئی کو مزدور دوبارہ احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے، اسی دوران مظاہرہ کی جگہ پر پولیس بھی جمع ہونا شروع ہو گئی۔ اچانک کسی شخص نے پولیس کی جانب دھماکہ خیز مواد پھینکا، ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں سات پولیس اہلکاران سمیت 4 شہری ہلاک ہو گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ دھماکے کا الزام پولیس مزدور یونین پر عائد کیا گیا اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

21 جون 1886ء کو کریمنل کورٹ میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی، لیکن ملزمان کو صفائی پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ سماج کو بچانے کے لیے مزدوروں کو سخت سزا دی جائے جس پر 19 اگست 1886ء کو عدالت نے سات مزدور رہنماؤں کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی۔ بعد ازاں شکاگو کے گورنر نے دو مزدوروں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی، جبکہ باقی پانچ کی سزا کو برقرار رکھا۔ اسی دوران سزائے موت والے مزدوروں میں سے ایک نے جیل میں خود کشی کر لی، دیگر چار مزدور رہنماؤں کو 11 نومبر 1887ء کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ یعنی جام شہادت نوش کیا۔ ہمارے عقیدے کے مطابق اپنے حقوق کے مطالبے پر جان دینے والے کو شہید کا رتبہ دیا جاتا ہے۔

دو سال بعد 1889ء میں پیرس میں "انقلاب فرانس” کی صد سالہ یادگاری تقریب کے موقع پر ریمنڈ لیونگ نے یہ تجویز رکھی کہ اگلے سال شکاگو کے مزدوروں کی برسی کے موقع پر عالمی سطح پر احتجاج کیا جائے۔ 1890ء کو پہلی مرتبہ عالمی سطح پر یوم مزدور منایا گیا۔ 1891ء سے یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منانے کی منظوری دے دی گئی۔ امریکہ کی ریاست اوریگن میں تو 1887ء کو ہی یوم مزدور منانے کی منظوری دے دی گئی تھی، لیکن پورے امریکہ میں 1894ء سے وفاقی سطح پر یوم مزدور منانے کا اعلان کیا گیا۔

یہاں تک تو چند تاریخی معلومات تھیں جو ہر سال اس لیے دہرائی جاتی ہیں کہ ہماری نئی نسل تک یہ تاریخی معلومات نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں اور علم ہو سکے کہ عقلی اعتبار سے یہ دنیا اس سطح پر اگر پہنچی ہے تو اس کی بنیاد عقل کے علاوہ صرف اور صرف "محنت” ہے۔ لیکن کاش کہ ہمارے محنت کش طبقے کو یہ معلوم ہو سکے کہ اگر وہ اپنا ووٹ سیاسی عقل کے ساتھ استعمال کرے تو اس ووٹ کی طاقت سے وہ خود اقتدار تک پہنچ کر وہ منازل حاصل کر سکتا ہے جس کے خواب میں زندگی بسر کرتا ہے اور دنیا سے ہمیشہ کے لیے روانہ ہو جاتا ہے۔

اسی لیے مضمون نگار نے آج کے یوم مئی کے موقع پر اپنے عنوان میں پاکستان کے بائیں بازو کو موضوع بنایا ہے یا مرکز خیال کرتے ہوئے انتخاب کیا ہے۔ مضمون کی ابتدا کسی فلاسفر یا محقق کے قول سے بجائے معروف صوفی بزرگ جلال الدین رومی کے ایک قول سے پیش کی ہے جو کچھ اس طرح ہے کہ "پرندہ جب اڑان کی ٹھان لے تو ہوا کو راستہ دینا ہی پڑتا ہے۔”

اب وہ بات جو آج کے مضمون کا مرکزی خیال ہے۔ میری مراد پاکستان کا بایاں بازو ہے، جسے عرف عام میں لیفٹ یا ترقی پسند کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ بازو ہے جو قیام پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان میں قائم ہو گیا تھا۔ اس بائیں بازو سے منسلک لوگ عالمی محقق اور جرمن فلاسفر سوشلسٹ معاشیات کے بانی کارل مارکس کے اشتراکی نظریات پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور موجودہ نافذ شدہ نظام معیشت جو سرمایہ دارانہ سوچ، نجی ملکیت یا طبقاتی تقسیم کی بنیادیں فراہم کرتا ہے کے مکمل خاتمے چاہتے ہیں۔ یہ بائیں بازو (کمیونسٹ پارٹی) کی ابتدا تو قبل از قیام پاکستان متحدہ ہندوستان میں ہی ہو گئی تھی۔ قارئین کے علم میں اضافہ کی خاطر یہ بتانا ضروری ہے کہ بائیں بازو کے لوگ عاملین پیدائش، زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم کی برابر تقسیم اور استعمال پر مکمل طور پر یقین رکھتے ہیں۔

یہ علم ہونا چاہیے کہ سوشلزم یا کمیونزم کے نظریات اس وقت پروان چڑھے جب 1917ء میں سابق سویت یونین (موجودہ روس) میں محنت کش طبقے نے اپنے زور بازو سے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دنیا میں پہلی محنت کش حکومت قائم کر دی، جس کی قیادت کا سہرا کامریڈ لینن کے سر تھا۔ تو اس انقلاب کے بعد یہ انقلابی فکر پوری دنیا میں اثر انداز ہوئی اور اسی انقلاب کے نتیجے میں 1925ء میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی بنیاد رکھی گئی، جس کے پہلے جنرل سیکریٹری تھے S.V Ghate، جو قیام پاکستان یا تقسیم ہند کے موقع پر دونوں خطوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔

طفیل عباس، سعادت حسن منٹو جیسے کئی حضرات اس بائیں بازو کا حصہ ہیں۔ پھر دادا امیر حیدر، مرزا ابراہیم، عبداللہ ملک، پروفیسر یوسف حسن، عبدالرؤوف ملک، جناب زمان اختر جو خوش قسمتی سے حیات ہیں اور ہم سے چند روز قبل ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والے عوامی ورکرز پارٹی راولپنڈی کے چیئر مین چوہدری مسعود الحسن بھی ان نشانیوں میں سے تھے۔ اس مضمون کی وساطت سے مضمون نگار کی طرف سے خصوصی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

جہاں تک پاکستان کے بائیں بازو کی 78 سالہ انقلابی جدوجہد کا تعلق ہے، تو اس کے متعلق کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ جہاں تک ممکنہ سیاسی حالات رہے، ان میں جو کچھ کیا گیا اس کی اہمیت سے کبھی انکار کرنا ممکن نہیں۔ نہ صرف سیاسی پارٹیوں تک بلکہ ذرائع ابلاغ عامہ (پرنٹ میڈیا) کے ذریعے تحریک جاری رہی، جو فکری تربیت کا سلسلہ چلتا رہا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ کالم نگار بھی اسی فکری تربیت کا نتیجہ ہے۔ مضمون نگار کی عقلی پیدائش ہی 1980ء کو رونما ہوئی، جبکہ عددی عمر تو 60 بہاریں گزر چکی ہیں۔ یوم مئی کے اس تاریخی موقع پر بوساطت کالم / مضمون ہرگز یہ مقصد نہیں کہ بائیں بازو پر کوئی تنقید کی جائے، صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلانے کی قلمی کوشش ہے۔ "شاید کہ کسی کے دل میں اتر جائے میری بات”۔

بائیں بازو کے محترمین قائدین جو مختلف سیاسی پارٹیوں کے نام سے پاکستان میں سوشلسٹ معاشی انقلاب کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں، مشاہدے میں یہ بات ہے کہ چند عرصہ سے مزدور، پسے طبقات کے حقوق نیز کھیت مزدور کے حقوق کی بات کرنے والے اشرافیہ کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے ہر دور کے اپنے سماجی تقاضے ہوتے ہیں لیکن حقائق سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ سوشلسٹ انقلابات کی جو تاریخ مطالعہ سے گزری ہے، وہ بہت سخت مشکلات اور قربانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کیونکہ جس استحصالی نظام سے واسطہ ہے، اس لوٹ کھسوٹ پر مبنی ناہموار طبقاتی نظام، آزاد منڈی کی معیشت کے تحفظ کے لیے قائم شدہ ریاست کو تبدیل کرنا جوئے شیر سے کم نہیں ہے۔

اب جہاں تک بائیں بازو کا تعلق ہے تو وہ اپنے مرکزی ہدف مزدور طبقے سے کسی طور منسلک دکھائی نہیں دیتا۔ آج یوم مئی ہے، لیکن تقریبات پریس کلب اور بڑے ایئر کنڈیشنڈ شادی ہالوں میں منعقد کی جا رہی ہیں، جس مزدور یا پسے طبقے کی بات کی جاتی ہے، اس کی مثال تو کسی تقریب میں دکھائی تک نہیں دیتی۔ یعنی قیادت اشرافیہ کے کردار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ پھر جس عوام کے حقوق کی باتیں ہوتی ہیں، اس عوام کو علم تک نہیں ہے کہ آج ان کی زندگی میں آسانی اور بنیادی حقوق کے محافظ ان کی بات کر رہے ہیں۔

یہاں تک ہمارے رکشہ والوں، رہڑی بانوں یا یومیہ مزدوروں، پھر دیہات میں کسان یا کھیت مزدوروں، مزارعوں کو علم دینے کا کوئی مؤثر ادارہ یا فورم نہیں ہے جو کہ ان طبقات کو یہ سمجھانے کی کوشش میں مصروف ہو کہ موجودہ سرمایہ دارانہ، نجی ملکیت اور آزاد منڈی کی معیشت میں سرکاری اداروں، یا کسی فرد کے بنیادی حقوق کی بات کرے گا، سوائے سوشلسٹ نظام پر مبنی جمہوری حکومت کے۔ حالاں کہ یہ فرض ہے بائیں بازو کا انہیں پتا ہوتا کہ پچاسوں، لینڈ کروزر گاڑیوں میں قائدین کے سفر کرنے سے مزدور متاثر نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ بات بھی روز روشن کی عیاں ہو چکی ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں اشتراکی یا فلاحی معاشی انقلاب رونما ہوا ہے، وہاں پہلے صنعتی انقلاب لازمی طور پر برپا ہوا ہے۔ اصل مشین مزدور منظم ہوا ہے اور بائیں بازو کے دونوں رہنماؤں نے اس مزدور کی فکری تربیت کی ہے۔ پھر اپنے قول و فعل امتیاز سے پاک واقعی ظاہر کیے ہیں تو معاشی انقلاب کو راستہ ہموار ہوا ہے۔

ہمارے بائیں بازو کے قائدین معذرت کے ساتھ مختلف رسائل اخبارات کا انتظام کرتے ہیں، لیکن ان میں سوشلزم کے متعلق بنیادی تعلیم دینے کی کوئی بات کھل کر نہیں ہوتی۔ صرف گہری باتیں کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اینٹ کی مسجد کا جو رواج ہے وہ بھی قابل غور ہے کیونکہ منزل جب سب کی ایک یعنی سوشلسٹ انقلاب یا فلاحی ریاست ہو، تو پھر ہمارے قائدین کو واقعی غور کرنا چاہیے کہ اس عوام کے اندر تک کیسے جایا جا سکے کہ ان کی ووٹ کی پرچی سے انقلاب بذریعہ انتخاب کو راستہ اختیار کیا جا سکے۔

ایسی سیاسی انقلابی پارٹی کیسے منظر عام لائی جائے جو عوام کو فکری طور پر قائل کر سکے کہ ان کی اصل قیادت کے قابل یہ لوگ ہیں جو خود مزدور یا نچلی سطح کے محنت کش طبقات سے پروان چڑھے ہیں۔ پاکستان بھر کے قیمتی رائے دہندگان کو باور کرایا جا سکے کہ اگر وہ اپنے چار بنیادی حقوق: روزگار، رہائش، تعلیم اور صحت کی سب کے لیے برابر ضمانت چاہتے ہیں تو پھر اس بائیں بازو کی سیاسی پارٹی کا انتخاب کریں تاکہ بذریعہ قانون سازی پبلک سیکٹر کو ہر طرح سے مضبوط کیا جا سکے۔ نیز بائیں بازو کے سیاسی قائدین کے غور کے لیے موجودہ حکومت کی مزدور مخالف پالیسیوں مثلاً پرائیویٹائزیشن، سورس آؤٹ، ریشنلائزیشن، ڈاؤن سائزنگ وغیرہ کے خلاف بے چارے ملازمین کئی روز سے صوبائی دارالحکومت پنجاب لاہور میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

تقاضا تو یہ ہے کہ ہمارے واقعی مارکسسٹ انقلابی قائدین کو ملازمین کے گرینڈ الائنس کے قائدین سے رابطہ کر کے اس دھرنے میں شرکت کرنی چاہیے اور ان ملازمین کو یہ بتایا جائے کہ موجودہ آزاد منڈی کی معیشت، نجی ملکیت کے نظام میں صحت، تعلیم یا دیگر متاثرہ اداروں کا تحفظ صرف یقین دہانی نہیں ہے بلکہ پورا نظام جب تک اشتراکی یا فلاحی بنیادوں پر قائم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک کسی ملازم، پنشنر، مزدور، کسان، مزارع کے بنیادی حقوق بازیاب نہیں ہوں گے۔ اس لیے آج کے یوم مئی کے توسط سے بائیں بازو کے قائدین کو واقعی مثبت اقدام کرنا چاہیے تاکہ احتجاجی دھرنے میں شرکاء کے حوصلے مزید بلند ہوں اور انہیں پتا چل سکے کہ ان کے مسائل کا اصل حل موجودہ نافذ شدہ نظام کے اندر نہیں ہے بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کے اندر مضمر ہے۔

یہ اب بائیں بازو پر منحصر ہے کہ وہ کس زاویہ سے سوچے گا۔ قائدین کیا اندازہ کریں گے کہ یہ مشورہ کہاں تک قابل عمل یا مؤثر ہے یا ممکن ہے؟ پھر یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ معاشی اشتراکی انقلاب کے لیے پہلے یہاں بڑے صنعتی انقلاب کا برپا ہونا از حد لازمی ہے۔ اس لیے اب ان چند الفاظ کے ساتھ ہی مضمون نگار اپنے بائیں بازو کے قائدین سے اجازت چاہتا ہے، اس توقع کے ساتھ کہ کالم کو ہر گز تنقید تصور نہ کیا جائے بلکہ بیان کردہ باتوں پر غور کر کے بہتری کی ممکنہ حد تک کوشش کی جائے۔

جیسا کہ مضمون کی ابتداء معروف صوفی بزرگ جلال الدین رومی کے اس قول سے کی گئی تھی کہ پرندا جب اڑان کی ٹھان لے تو ہوا کو راستہ دینا ہی پڑتا ہے تو پاکستان کے بائیں بازو سے یہ شکوہ ہرگز نہیں ہے کہ انہوں نے جہد مسلسل نہیں کی، 78سالہ تاریخ میں اس بائیں بازو کے کتنے مزدور رہنما،دانشور، کارکنان ادیب،شعرا نے کتنی داستان دارورسن رقم کی بیان نہیں کیا جا سکتا کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ معاشی اشتراکی انقلاب کے لئے شاید ایسی اڑان کی ٹھان لی ہی نہیں گئی کہ ہوا کو واقعی راستہ دینا ہی پڑ جاتا۔

دنیا میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جو ممالک سامراج سے آزاد ہوئے اور وہاں صنعتی انقلاب برپا ہوا اس کے نتیجے میں اشراکی معاشی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی ایسی مزدور انجمنوں سے سیاسی پارٹیاں ابھریں کہ بذریعہ انتخاب معاشی انقلاب کا سفر طے ہونا ممکن ہو گیا۔بائیں بازو کے تمام محترم دوستوں کو سرخ سلام بس اپنے موجودہ طریقہ پر غور کر کے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر جہد مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے. ایک بار پھر سرخ سلام۔

 

 

تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button