پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے دور، ڈاکٹر زمسیحاسے قصابوں کاروپ دھارنےلگے

جہلم: پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے دور، ڈاکٹر زمسیحاسے قصابوں کاروپ دھارنےلگے۔ غریب مریض مہنگائی کے دورمیں علاج محالجے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، پرائیویٹ ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں، ہسپتال کے اندر بنائے گئے میڈیکل سٹورز کے کرایوں کے نام پر لوٹ مار، لیبارٹریوں کے مہنگے ٹیسٹوں کے نام پر مہنگائی کے اس پرفتن دور میں غریب مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا شروع کر دیا۔
متعدد سرکاری ڈاکٹرز نے شہر کے مختلف مقامات پرہسپتال کھول لیے جہاں مریضوں سے 1000 سے 1500 روپے تک فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ فیس نہ ہونے پر مریضوں کوہسپتالوں سے باہر نکال دیا جاتا ہے جو کہ انسانیت کی تذلیل ہے۔
دوسری جانب ادویات بنانے والی کمپنیوں سے مراعات، کوٹھیاں ، پلاٹ، گاڑیاں اور پیسے لیکر مریضوں کو مہنگے نسخے تھما دیئے جاتے ہیں جو ادویات مہنگی ہونے کے بعد عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔
شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی وزیر صحت و دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک کرنے پر سختی سے پابندی عائد کی جائے اور پرائیویٹ چیک اپ کرنے کی فیس 500 روپے مقرر کی جائے اور ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی جائے تاکہ غریب نادار ،مستحق افراد علاج معالجہ کرواسکیں۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



