سوشل میڈیا کی غلط معلومات، بکری اور مینڈھا پال سکیم کے درخواست گزار خالی ہاتھ واپس

پڑی درویزہ: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غلط معلومات کے باعث جہلم کے درجنوں درخواست دہندگان ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کے دفتر پہنچ گئے، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ "بکری، مینڈھا پال سکیم” میں ضلع جہلم شامل ہی نہیں ہے۔ یہ سکیم صرف چکوال اور اٹک کے لیے مختص ہے، جس پر متاثرہ افراد نے حکام بالا سے فوری اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 15 مارچ 2025 کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام وائرل ہوا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے غریب مویشی پال حضرات کو نسلی بکریاں اور بھیڑیں فراہم کی جائیں گی۔ اس پیغام کے ساتھ ایک درخواست فارم بھی منسلک تھا، جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ضلع کا نام درج تھا۔
مقامی کمپیوٹر فائل آپریٹرز نے یہ معلومات اپنے سٹیٹس کے ذریعے عوام تک پہنچائیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد نے درخواست فارم مکمل کر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو اسٹاک، ضلع جہلم کے دفتر کا رخ کیا۔
تاہم، دفتر پہنچنے پر انکشاف ہوا کہ مذکورہ سکیم میں ضلع جہلم شامل نہیں، اور یہ صرف چکوال اور اٹک کے مستحق افراد کے لیے ہے۔ اس غلط فہمی کے نتیجے میں درخواست گزاروں کو مایوسی کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔
متاثرہ مویشی پال حضرات نے مطالبہ کیا کہ حکومت سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف ضابطے مرتب کرے اور ہدایت جاری کرے کہ کسی بھی سرکاری سکیم سے متعلق معلومات کو وائرل کرنے سے قبل اس کی تصدیق کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سوشل میڈیا کو کسی ضابطے کا پابند نہیں بنایا جاتا، عوام اسی طرح غلط فہمیوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔
عوامی و سماجی حلقوں خصوصاً بکری، بھیڑ اور مینڈھا پال سکیم میں دلچسپی رکھنے والے خاندانوں نے تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم کو بھی اس سکیم میں شامل کیا جائے تاکہ یہاں کے مستحق افراد بھی پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔



