ضلعی انتظامیہ کی غفلت، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس غیر فعال، گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ

جہلم: ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث جہلم میں پرائس کنٹرول کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی خاموشی نے گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ اشیائے خوردونوش پر سرکاری نرخنامے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عوام شدید مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ قیمت ایپ اور سرکاری نرخنامے محض کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جس کا عملی مظاہرہ شہر و ضلع بھر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ دودھ اور دہی کی قیمتیں سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔
سرکاری نرخنامے کے مطابق دودھ فی لیٹر 170 روپے ہے جبکہ مارکیٹ میں خالص دودھ 200 سے 250 روپے اور ملاوٹ شدہ دودھ 190 سے 220 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح دہی کی قیمت 200 سے 220 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جبکہ نرخنامے میں دہی کا کوئی ذکر نہیں۔
مزید برآں، بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1600 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر مارکیٹ میں یہ 2500 سے 3000 روپے میں دستیاب ہے۔ گائے کے گوشت کا نرخ 800 روپے فی کلو ہونا چاہیے، مگر یہ 1200 سے 1400 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
تندوروں پر بھی اوورچارجنگ عروج پر ہے۔ 100 گرام کی روٹی کا سرکاری نرخ 14 روپے ہے مگر کم وزن کی روٹی 15 روپے جبکہ 100 گرام روٹی 20 روپے میں بیچی جا رہی ہے۔ ہوٹلوں پر ایک روٹی 60 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔
گھی، چینی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش پر بھی دکاندار "بمطابق گورنمنٹ پالیسی” یا "مارکیٹ کمیٹی نرخ” کا بورڈ لگا کر من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں، جس کا ضلعی انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
عوامی، سماجی، رفاہی اور فلاحی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے سرکاری نرخنامے پر کڑا عملدرآمد کروائیں تاکہ غریب عوام کو گراں فروشوں کے ظلم سے نجات مل سکے۔



