سید ایوب شاہ صاحب۔۔ ایک شخصیت، ایک انجمن

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں تھانہ جلال پور شریف ضلع جہلم میں بطور ایس ایچ او فرائض سرانجام دے رہا تھا اور میری پہلی ملاقات سید ایوب شاہ صاحب سے ہوئی جو ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر جہلم تعینات ہو کر ائے تھے۔ پراسیکیوشن کا شعبہ الگ سے قائم ہونے سے پہلے ہمارے محکمہ کے ڈی ایس پی لیگل اور انسپکٹر لیگل ہی بطور پراسیکیوٹر کام کرتے تھے۔
وہی چالان وغیرہ کی چھان بین کرتے اور وہی عدالتوں میں بطور سرکاری وکیل پیش ہوتے تھے اپنے محکمہ کے ہونے کی وجہ سے اس شعبے کی اہمیت کا اتنا زیادہ اندازہ نہ تھا جب پراسیکیوشن کا شعبہ الگ ہوا تو کافی ساری نئی چیزیں دیکھنے کو ملیں اور مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ۔
سید ایوب شاہ صاحب سے میری پہلی ملاقات بھی ایک چالان کی چھان بین کے دوران ہی ہوئی اور مجھے لگا کہ شاید ایوب شاہ صاحب ایک مشکل ادمی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معلوم ہوا کہ شاہ صاحب ہمارے لیے مشکلات پیدا نہیں کر رہے بلکہ بہت کچھ سکھا رہے ہیں اور ان کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر لی شاہ صاحب سے محکمانہ معاملات سیکھتے سیکھتے تعلق گہرا ہوتا گیا اور ایک روحانی نسبت اختیار کر گیا جو آج تقریباً 15 سال پر محیط ہے۔
اگرچہ میں 2017 میں جہلم سے تبدیل ہو کر چکوال آگیا تھا اور پروموشن کے بعد راولپنڈی شفٹ ہو گیا تاہم ایوب شاہ صاحب کے ساتھ رابطہ ہمیشہ برقرار رہا اور ان کا سایہ شفقت مجھے ہر جگہ محسوس ہوتا رہا۔ تقریباً ایک سال قبل راولپنڈی میں میرے دفتر آئے اور ان کے ہمراہ ان کے صاحبزادے سید روال عباس شاہ بھی تھے اور اپنے بیٹے کو میرا تعارف ایسے کروایا کہ بیٹا یہ تمہارے چاچو ہیں اور اس دن سے سید روال عباس شاہ بھی میرے ساتھ اسی طرح رابطے میں ہیں۔
دو سال قبل سڑک کے حادثہ میں جب میں شدید زخمی ہو گیا تو سید ایوب شاہ صاحب بلا ناغہ میرے ساتھ رابطے میں رہے، مجھے حوصلہ تسلی دیتے رہے اور ہومیو پیتھک کا تجربہ رکھنے کی وجہ سے میرا علاج معالجہ بھی ساتھ ساتھ کرتے رہے۔ ایوب شاہ صاحب کا اپنا الگ ہی ایک پروٹوکول تھا دفتر ہو یا گھر، گاڑی میں دوران سفر اور دوست احباب کے ساتھ ملتے وقت ایک سپیشل قسم کا حقہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا اور ساتھ ہی ایک خدمتگار بھی جہاں بیٹھتے وہیں محفل لگا لیتے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے۔
میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ جب بزرگ لوگوں نے اس طرح کی محفل لگائی ہوتی ہے تو ہم جیسے لوگ صرف وقتی طور پر لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں حالانکہ چاہیے تو یہ کہ یا تو وہ تمام باتیں نوٹ کی جائیں یا ریکارڈ کی جائیں کیونکہ وقت گزرنے کے بعد انسان کو ان لمحوں کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
گزشتہ روز صبح جب ایوب شاہ صاحب کے بیٹے نے مجھے واٹس ایپ پر پیغام دیا کہ بابا ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں پڑھ کر جہاں مجھے دھچکا لگا وہیں پر مجھے ان لمحوں کی رائیگانی کا اور بھی احساس ہوا جو میں نوٹ اور ریکارڈ نہیں کر سکا۔ چند دن پہلے انہوں نے خود مجھے فون کر کے بتایا کہ وہ گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو گئے ہیں اور ڈائیلاسز کروا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے ملنے آؤں گا لیکن وقت نے مہلت ہی نہیں دی۔
ایک پنجابی شاعر نے شاید اسی لیے یہ کہا تھا :
تلی دی اک اک لکیر دکھ اے
یہ سوچیئے تے فقیر دکھ اے
اللہ تعالی شاہ صاحب کی اگلی منزلیں اسان فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین
تحریر: راجہ ظفر شکیل
ڈی ایس پی
پولیس ٹریننگ سکول راولپنڈی



