جہلم میں سوئی گیس کی بندش کی وجہ سے صارفین مہنگے داموں ہوٹلز سے کھانا خریدنے پر مجبور

جہلم: گرمی کا موسم اور شہر میں سوئی گیس کی بندش اور گھروں میں گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے صارفین مہنگے داموں ہوٹلز سے کھانا خریدنے پر مجبور، گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے صارفین پریشان، صارفین نے وزیر اعظم پاکستان سے نوٹس لینے اور بلوں میں اضافی ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
جہلم شہر اور ملحقہ علاقوں میں ایل پی جی فروخت کرنے والوں نے گیس کی فی کلو قیمت میں بھی اضافہ کر دیا، شہر کے بیشتر علاقوں میں صبح 6 بجے سے 8 بجے دوپہر 12 بجے سے سہ پہر 2 بجے جبکہ شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک گیس دی جاتی ہے۔
جہلم شہر کے بعض علاقوں جن میں شمالی محلہ ،باغ محلہ ،نیا محلہ ،مشین محلہ ،جادہ ،بلال ٹاؤن، مدینہ ٹاؤن کالا گجراں سمیت گردو نواح میں سوئی گیس کا انتہائی کم پریشر ہوتا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صارفین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان ،وفاقی وزیر پٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور رواں سال لاگو کئے گئے ٹیکسیز کو ختم کیا جائے تاکہ شہری کو پیش آنے والی مشکلات کاخاتمہ ممکن ہو سکے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



