بینک ہالیڈے کا فرسودہ نظام معیشت کے لیے زہرِ قاتل ہے، اسے فوری ختم کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالشکور ملک

جہلم: انجمن شہریان جہلم کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالشکور ملک نے "بینک ہالیڈے” جیسے فرسودہ نظام کو عوامی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم، وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر ضروری تعطیل کو فوری ختم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ، گوگل اور جدید آن لائن ٹرانزیکشنز کے اس دور میں صرف اندرونی حساب کتاب کی بنیاد پر بینکوں کو ایک دن کے لیے مکمل بند کر دینا ایک ایسی قوم کے لیے نقصان دہ ہے جو پہلے ہی آئی ایم ایف کے قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر عبدالشکور ملک کا کہنا تھا کہ 30 جون کی شام تک دو گھنٹوں میں بینک رپورٹیں مکمل کی جا سکتی ہیں، پھر پورے ملک کے بینکوں کو بند کر دینا بلاجواز ہے۔ بینک ہالیڈے کی وجہ سے نہ صرف تنخواہیں رکتی ہیں بلکہ بیواؤں کو پنشن لینے میں دشواری ہوتی ہے، یوٹیلیٹی بلز، کالج فیسوں اور دیگر مالی امور میں خلل آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں اکثریت دیہاڑی دار طبقے پر مشتمل ہے جن کے لیے ایک دن کی بینکاری تعطیل بھی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ شہری اس دن نہ تو کیش نکلوا سکتے ہیں، نہ ہی مالی ذمہ داریاں پوری کر سکتے ہیں، جس سے عوامی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالشکور ملک نے کہا کہ یہ نظام انگریز کے دور کی ایک باقیات ہے، جو اب ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ایسے غیر پیداواری اقدامات کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ بینک ہالیڈے کو ختم کر کے بینکنگ نظام کو مسلسل فعال رکھا جائے تاکہ عام شہری، خاص طور پر محنت کش طبقہ، معاشی طور پر پریشان نہ ہو۔



