جہلم میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں غیر قانونی وصولیاں جاری، مسافروں کا شدید احتجاج

44
جہلم شہر، گردونواح اور دیگر اضلاع کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر قانونی اور من مانے کرایوں کی وصولی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث روزانہ سفر کرنے والے محنت کش طبقے، طلبہ اور ملازمین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ بھی مزید بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
جنرل بس اسٹینڈ جہلم میں مسافروں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے 15 دسمبر کو ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے احکامات جاری کیے گئے تھے، تاہم اس کے باوجود ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی بلکہ الٹا سرکاری نرخ ناموں سے کہیں زیادہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔
مسافروں کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا، اس کے باوجود بسوں، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں مقررہ کرایوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر طلبہ، مزدور طبقہ اور سرکاری و نجی ملازمین ہیں جو روزانہ سفر پر مجبور ہیں اور اضافی کرایہ ادا کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے بتایا کہ مختصر فاصلے کے لیے بھی اضافی کرایہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ بیشتر گاڑیوں میں سرکاری کرایہ نامے آویزاں ہی نہیں کیے گئے۔ مسافروں کے مطابق جب زائد کرایہ وصولی پر احتجاج کیا جاتا ہے تو بعض ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز بدتمیزی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں، جس سے عوام میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے، پرمٹ منسوخی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کرایہ ناموں کی باقاعدہ چیکنگ، جنرل بس اسٹینڈ اور مختلف روٹس پر اچانک چھاپے، اور مسافروں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر ہیلپ لائن قائم کی جائے۔ مسافروں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور ٹرانسپورٹرز کی من مانی کا خاتمہ یقینی بنائیں، تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔



