جہلم میں مرکزی ویگن سٹینڈ ختم ہونے سے جگہ جگہ غیرقانونی اڈے قائم، شہری مشکلات کا شکار

جہلم: انتظامیہ نے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے کے بجائے مزید بگاڑ دیا۔

شہر کے مرکزی ٹریفک دفتر کے سامنے دہائیوں سے قائم ویگن سٹینڈ کو ختم کرکے مختلف مقامات پر غیرقانونی ویگن اڈے قائم کر دیے گئے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور موٹر وہیکل ایگزمینر نے اندرون شہر ٹریفک دفتر کے سامنے موجود مرکزی ویگن سٹینڈ کو ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد جہلم تا دینہ، جہلم تا چک جمال، جہلم تا اڑہ جسروٹہ اور جہلم تا رانجھا میرا چلنے والی ویگنوں کو باقاعدہ لاری اڈہ منتقل کرنے کی بجائے شہر کے مختلف حصوں میں کھڑا ہونے کی اجازت دے دی گئی۔

اس غیرمنظم فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ویگن مالکان نے میونسپل کمیٹی دفتر کے سامنے غیرقانونی سٹینڈ قائم کر لیا، جہاں سے جہلم تا اڑہ جسروٹہ اور جہلم تا رانجھا میرا کی ویگنیں روانہ کی جارہی ہیں، جس سے دفتر آنے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

اسی طرح جہلم تا دینہ اور جہلم تا چک جمال چلنے والی ویگنوں کے لیے سول اسپتال اور جادہ کے مقام پر بھی غیرقانونی ویگن سٹینڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔ سول اسپتال کے سامنے سٹینڈ بننے سے مریضوں کی ایمبولینسز اور پرائیویٹ گاڑیوں کو اسپتال پہنچنے میں شدید دشواری ہو رہی ہے، جو ایک انسانی ہمدردی کا مسئلہ بن چکا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے ان غیرقانونی ویگن سٹینڈز کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے کی بجائے "ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔

شہریوں نے کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیرقانونی سٹینڈز کو فی الفور ختم کیا جائے اور تمام ویگنوں کو باضابطہ طور پر لاری اڈہ منتقل کیا جائے تاکہ شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button