برطانوی مسلمانوں کی اکثریت کو انتہاپسندوں سے جوڑنا غیر ذمہ داری ہے، متاثرین کا کھلا خط

لندن: مسلم انتہا پسندوں کے حملوں کا شکار ہونے والے 50 سے زیادہ متاثرین نے، جن میں لندن، مانچسٹر اور برسلز کے متاثرین شامل ہیں، ایک مشترکہ کھلاخط جاری کیا ہے جسے انھوں نے anti-Muslim hateکا نام دیا ہے۔

اپنے اس خط میں انھوں نے بعض سیاستدانوں کی جانب سے برطانوی مسلمانوں کو انتہا پسندوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ برطانیہ کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت کو، جو انتہاپسندی اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، انتہا پسندوں کے ساتھ جوڑنا غیر ذمہ داری ہے۔

یہ خط ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے، جب حکومت انتہا پسندی کی نئی تشریح کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اسلامی انتہاپسندی ملک کو درپیش دہشت گردی کا بڑا خطرہ ہے لیکن دہشت گردی کا صرف یہی خطرہ نہیں ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ انتہاپسندوں کے اس خطرے کو شکست دینے کیلئے ضروری ہے کہ انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کو برطانوی مسلمانوں سے الگ کر کے تنہا کردیا جائے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران بہت سے ایسے واقعات ہوئے، جن میں سیاستداں اور دوسرے ایسا نہیں کرسکے۔

انھوں نے کہا کہ بعض معاملات میں مسلمانوں کو انتہاپسندوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی حوصلہ افزائی، تقسیم ہوتی ہوئی کمیونٹیز اور بڑھتے ہوئے خطرات سے انتہا پسندی کی ایک لہر آسکتی ہے، جس سے زیادہ افراد کو خطرہ لاحق ہوگا۔

خط پر دستخط کرنے والے 57 افراد میں Magen Inon کے ورثاء شامل ہیں، جو حماس کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے، اس کے علاوہ دوسرے لوگوں میں ریبیکا رگبی شامل ہیں، جن کے شوہر کو 2013 میں وولوچ بیرکس میں 2 انتہاپسندوں نے قتل کردیا تھا، ان میں فیجن اور اسٹوارٹ مورے بھی شامل ہیں، جن کے بیٹے مارٹن کو 2017میں مانچسٹرایرینا حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا جبکہ 2019 میں لندن برج پر حملے میں زندہ بچ جانے والے کلاڈیا ونس شامل ہیں، ان میں چارلوٹ ڈکسن بھی شامل ہیں، 2016 میں جن کی اہلیہ برسلز میٹرو دھماکے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ مسلم دشمن نفرت کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ مساجد پر حملوں کو 5 سال پورے ہونے والے ہیں، ان حملوں میں 51 نمازی شہید ہوئے تھے۔ دریں اثناء کمیونٹیز کے وزیر مائیکل گوو نے انتہاپسندی کی نئی سرکاری تعریف وضح کی ہے اور اب حکومت مقررہ حد سے آگے بڑھنے والے کسی بھی گروپ کی امداد بند کرنے یا اس کے ساتھ تعلقات توڑنے کیلئے اسے اسے استعمال کرے گی۔

نئی تشریح سے انتہا پسندی کی روک تھام کا موجودہ پروگرام بھی تبدیل ہوجائے گا اور اس میں اس بات کو زیادہ واضح طور پر بتایا جائے گا کہ جس کے تحت حکومت اور دوسرے سرکاری ادارے اسلامی اور انتہائی دائیں بازو کے گروپوں کو فنڈز کی فراہمی اور ان کے ساتھ تعلقات منقطع کرسکے گی۔

فی الوقت برطانوی اقدار، جس میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی، شخصی آزادی اور مختلف مذاہب کے باہمی احترام اور تحمل شامل ہے، کی مخالفت کرنے کو انتہا پسندی تصور کیا جاتا ہے۔ مائیکل گوو فلسطینیوں کی حمایت میں نکالے جانے والے جلوس کو تلقین کررہے ہیں کہ وہ انتہا پسندوں کےساتھ مل کر مارچ نہ کریں کیونکہ انتہا پسند جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

سنڈے ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت میں بعض ایونٹس کااہتمام انتہا پسند تنظیمیں کررہی ہیں۔ اس ہفتے کے اوائل میں حکومت کے انسداد انتہا پسندی سے متعلق کمشنر نے وزرا پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کرتے ہوئے وہ زیادہ قانونی خطرات مول لیتے ہیں۔

رشی سوناک کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو انتہاپسندی پر شدید تشویش ہے اور صہیون مخالفت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کو وہ انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتہاپسندی کی نئی تشریح کا ایک واضح مقصد ہے اور اسے حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کا فیصلہ کرتے وقت استعمال کیا جائے گا۔

سیاسی ایجنڈے میں ا نتہا پسندی میں اضافے کا مسئلہ ٹوری پارٹی کے سابق ڈپٹی چیئرمین لی اینڈرسن کے اس بیان کے بعد کھڑا ہوا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ لندن کے میئر صادق خاں کو اسلام پسند کنٹرول کررہے ہیں۔ رشی سوناک نے ان کمنٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے لی اینڈرسن کو پارٹی سے معطل کردیا تھا او ر ایک تقریر میں انھوں نے ملک کو توڑنے کی کوشش کرنے والی قوتوں کو متنبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button