ریسکیو 1122جہلم کی کارکردگی رپورٹ جاری، ماہ جولائی میں 4 ہزار سے زائد شہریوں کو ریسکیو کیا

جہلم: ریسکیو 1122کی ماہ جولائی کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی، ریسکیو 1122 نے ماہ جولائی میں 8 منٹ کے ایوریج رسپانس ٹائم سے 4004 افراد کو ریسکیو کیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122جہلم انجینئر سعید احمد کی صدرات میں ایک اجلاس ہوا جس میں ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ریسکیو1122 جہلم نے بروقت رسپانس کرتے ہوئے مجموعی طور پر 4004 لوگوں کو ریسکیو کیا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد 1417 مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

ماہ جولائی میں 11378 کالز موصول ہوئی جن میں 2077 ایمرجنسیز کالز پر بروقت ریسپانس کیا گیا۔ جن 2077 ایمرجنسیز کالز پر رسپانس کیا ان میں روڈ ٹریفک ایکسڈینٹ کی تعداد 274 تھی، میڈیکل ایمرجنسیز کی تعداد 1364 تھیں۔ آگ لگنے کا واقعات 13 ہوئے،کرائم 30 ،ڈوبنے کا واقعات 9 اور متفرق ایمرجنسیز کی تعداد 386 رہی۔

ریسکیو 1122نے ماہ جولائی میں بھی بہتر رسپانس ٹائم کی روایت کو برقرار رکھا ایوریج رسپانس ٹائم 8 منٹ رہا اور فائر ایمرجنسیز کا ایوریج رسپانس ٹائم 4 اعشاریہ 1 منٹ رہا۔

ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے دریائے جہلم کی ملحقہ آبادیوں میں یونین کونسل کی سطح پر سیلاب کی صورت میں انخلاء کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور ان رضاکاروں کے لیے ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا گیا ۔

پنجاب کمیونٹی سیفٹی ایکٹ کے تحت ضلع کی تمام بلند عمارات جن کی اونچائی 50 فٹ ہے کو چیک کیا گیا اور بلڈنگ سیفٹی کے قوانین کو لاگو کروانے کے لیے ہدایات دی گئیں۔

کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے ریسکیو کی جانب سے ماہ جولائی میں مختلف کالجز اور اداروں میں فرسٹ ایڈ اور فائر سیفٹی کی ٹریننگ کا انعقاد بھی کیا گیا۔

علاوہ ازیں پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے تحت مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ضلع جہلم سے کل 164 مریضوں کو جہلم،راولپنڈی، اسلام آباد، سرگودھا کے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے پورے ماہ میں ریسکیورز کی کارکردگی کو حوصلہ افزاء قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کا ادارہ کسی بھی ایمرجنسی یا سانحہ سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ریسکیو 1122 عوام کا ادارہ ہے اور ہم عوام کی فلاح کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنا ہے۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں


Google News

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button