کھوکھا باولی، ایک تاریخی ورثہ جو تحفظ کا متقاضی

جہلم کی تحصیل دینہ میں قلعہ روہتاس کے قریب کے گاؤں کھوکھا میں کھوکھا باولی واقع ہے۔ جنگی دور کے انجینئرنگ کا ایک نمونہ ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہ باولیاں نہ صرف مقامی باشندوں اور سفر کرنے والوں کی ضروریات کو پورا کرتی تھیں بلکہ گھڑ سواروں کے لیے بھی یہ سہولت فراہم کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھوڑوں کو براہ راست پانی کے تالاب تک لے جا سکیں اور ان کی پیاس بجھا سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ باولی مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی تھی۔

موقر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چودھری محمد اشرف آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ریٹائرڈ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ بعض علاقوں میں جیسے میانوالی ان باولیوں کو مقامی زبان میں ’وہان‘ بھی کہا جاتا تھا۔

یہ دیوار فوری مرمت کی محتاج ہے۔

ایک اور باولی جو کہ مندرا اور گوجر خان کے درمیان جی ٹی روڈ پر واقع ہے، ’باولی ہوٹل‘ کے نام سے معروف ہے۔ چودھری محمد اشرف کے مطابق مغل بادشاہ اکبر نے گجرات میں ایک بڑی باولی تعمیر کروائی تھی جو ان کے والد بادشاہ ہمایوں کی طرف سے مقامی لوگوں سے کیے گئے وعدے کی تکمیل تھی۔ تاہم اشرف کے مطابق کچرے کی وجہ سے اسے اصل حالت میں کھودا نہیں جا سکا۔

روہتاس قلعے کے ارد گرد جنگوں کے دوران گھوڑے پانی تک براہ راست رسائی کے لیے سیڑھی دار راستے کا استعمال کرتے تھے۔

ایک چھوٹی باولی جو کہ غزن آباد گاؤں کے قریب کلر راوت روڈ پر واقع تھی، ماضی میں مقامی زمین مافیا نے مٹی سے بھر دی تھی۔ علاقے کے مکینوں نے کمشنر سے درخواست کی ہے کہ اس کی کھدائی کی جائے۔ روہتاس کے آس پاس موجود ‘کھوکھا باولی’ کی حالت کافی حد تک محفوظ ہے، سوائے اس کے ایک حصے کی دیوار کے جو وقت کی ضرورت کے مطابق مرمت کا متقاضی ہے۔

یہ وسیع سیڑھیاں جو تین شاندار کمان دار محرابوں سے گزرتی ہیں اور ٹھنڈے اور صاف پانی کے چشموں کی طرف جاتی ہیں، اس کی "ماضی کی عظمت” کی گواہی دیتی ہیں۔ وسیع گول کنواں بھی اب تک محفوظ ہے، حالانکہ حکام کی غفلت کی وجہ سے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔

باؤلی کی بوسیدہ ہوتی ہوئی حفاظتی دیوار کا بیرونی منظر۔

میثم عباس ڈپٹی کمشنر جہلم نے یقین دلایا کہ حکام کو اس تاریخی مقام کی حفاظت کے لیے ہدایات جاری کی جائیں گی۔

کشادہ کنواں جس میں محرابی راستہ موجود ہے۔

محمد عرفان سب ڈویژنل آفیسر محکمہ آثار قدیمہ جو روہتاس قلعے میں تعینات ہیں نے بتایا کہ اس مقام کا تفصیلی جائزہ ایک انجینئرز کی ٹیم نے لیا ہے اور اس کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ ’کھوکھا باولی‘ کو ‘محفوظ’ مقامات کی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے ارد گرد کا علاقہ زائرین کے لیے پارک میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button