جہلم میں پرائیویٹ سکولز مالکان کی جانب سے فیسوں کی غیر قانونی وصولی جاری، شہری پریشان

جہلم: ضلع بھر میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا منظر، اکثر و بیشتر پرائیویٹ سکولز مالکان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے والدین سے فیسیں اینٹھنا جاری رکھا ہوا ہے، جس سے والدین سخت پریشانی اور اضطراب کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق جہلم شہر اور گرد و نواح میں متعدد سکولز "اپنی نگری اپنا راج” کے اصول پر چل رہے ہیں۔ بیشتر سکول نہ صرف غیر رجسٹرڈ ہیں بلکہ ان میں سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سکولز 2 سے 4 کمروں پر مشتمل ہیں، جن میں نہ کھیل کے میدان موجود ہیں، نہ صاف پانی، نہ بجلی کی متبادل سہولت (یو پی ایس/جنریٹر)، اور نہ ہی مناسب پارکنگ کا انتظام۔ کئی سکولز تنگ سڑکوں اور بازاروں میں قائم ہیں، جہاں ٹریفک کا دباؤ روزانہ کا معمول بن چکا ہے، جس سے شہری شدید اذیت کا شکار ہیں۔ ان حالات میں طلبا و طالبات کی حفاظت بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی خاموشی اور غفلت اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کی چشم پوشی کے بغیر اس قسم کی کھلی خلاف ورزیاں ممکن نہیں۔

شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ایجوکیشن اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری اور غیر قانونی سکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ والدین اور زیرِ تعلیم بچوں کو استحصال سے بچایا جا سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیم ایک بنیادی حق ہے، اور اس شعبے میں لوٹ مار کسی صورت برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button