افغانستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے، مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم نے کہا کہ افغانستان میں موجود آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ قرآنِ حکیم میں واضح حکم موجود ہے کہ جو گروہ بغاوت کرے اس سے اس وقت تک لڑا جائے جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس نہ آ جائے، لہٰذا حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کا شرعی حدود میں رہتے ہوئے فتنۃ الخوارج اور باغیوں کے خلاف کارروائی کرنا نہ صرف جائز بلکہ قرآنی حکم کے تحت واجب ہے۔
مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے مطابق افواجِ پاکستان اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور ان کے خلاف مؤثر آپریشن کرنا درست اور بروقت اقدام ہے۔ کونسل نے کہا کہ ایسے حالات میں افواجِ پاکستان کی حمایت اور بقدرِ استطاعت مدد کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ فتنہ خوارج بے گناہ انسانیت کے قتلِ عام میں ملوث ہیں اور ہتھیار اٹھا کر فساد فی الارض پھیلا رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں اور کسی مسلمان حکومت کے خلاف مسلح کارروائی اور خونریزی بدترین گناہ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش حملوں میں ملوث عناصر تین سنگین گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں، جن میں خودکشی، بے گناہ انسان کا قتل اور مسلمان حکومت کے خلاف بغاوت شامل ہیں۔
مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم نے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کی شہادت پر ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے خون کا حساب لیا جائے، کیونکہ ایک ایک پاکستانی کا خون نہایت قیمتی ہے۔
بیان میں افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو اپنی سرزمین سے ختم کرے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ کونسل کے مطابق حالیہ خودکش بم دھماکوں، جن میں اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں رمضان المبارک کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں شامل ہیں، میں فتنہ خوارج ملوث ہے۔ یہ کارروائیاں افغانستان میں مقیم دہشت گرد قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر کی جا رہی ہیں۔
مرکزی علماء کونسل نے کہا کہ دہشت گرد اپنے نقصانات کی خفت مٹانے کے لیے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ حملے مساجد پر کیے گئے، حالانکہ نشانہ بنائے گئے مقامات دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز تھے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جن اہداف کو نشانہ بنایا وہ فتنہ خوارج اور دہشت گرد عناصر کے مراکز تھے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں اور نہ ہی ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے، بلکہ وہ پاکستان اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں۔



