جہلم کے بزرگ پنشنرز بائیومیٹرک اور لائف سرٹیفکیٹ کیلئے ڈاکٹرز اور بینکوں کے چکر لگانے پر مجبور

جہلم: وفاقی حکومت اور وزارتِ خزانہ کی موجودہ پالیسیوں کے باعث جہلم کے بزرگ پنشنرز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

لائف سرٹیفکیٹ متعلقہ محکموں میں جمع کروانے کے باوجود ہر چھ ماہ بعد بائیومیٹرک اور لائف سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیے ڈاکٹرز کے کلینک اور بینکوں کے چکر لگانا معمر شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے۔

سخت گرمی اور سردی کے موسم میں بیماری اور بڑھاپے کے باوجود پینشنرز طویل قطاروں میں لگ کر گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ بعض بزرگ شہریوں کو شناختی فنگر اسکین نہ ہونے پر بار بار دھکے کھانے پڑتے ہیں۔

بزرگ شہریوں نے اس صورتحال کو ظلم و ناانصافی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے نوٹس لینے اور نظام میں آسانیاں پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ بزرگ پنشنرز کے لیے گھر بیٹھے تصدیق کا نظام متعارف کرائے تاکہ وہ اپنی بڑھاپے کی زندگی عزت اور سکون کے ساتھ گزار سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button