موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی ضلع جہلم میں پردیسی پرندوں کی آمد، کھیتوں کھلیانوں کی رونقیں بحال

جہلم شہر اور گردونواح میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی پردیسی پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس سے کھیتوں کھلیانوں کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہو رہی ہیں۔ سرد ممالک جیسے سائبیریا، چین، روس اور دیگر برف پوش خطوں سے آنے والے یہ پرندے طویل سفر طے کر کے پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی برف باری اور سخت موسم کی شدت کے باعث ہزاروں پردیسی پرندے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ ان میں مرغابی، نیل سر، نیلا مرغا، فاختہ، تلیر اور کئی دیگر اقسام شامل ہیں۔ یہ پرندے پاکستان کے سرحدی اور پہاڑی علاقوں، دریاؤں، ندی نالوں اور مچھلی فارموں میں عارضی طور پر بسیرا کرتے ہیں۔
پرندوں کی آمد نہ صرف قدرتی حسن کو نکھار رہی ہے بلکہ مقامی کھیتوں اور کھلیانوں میں زندگی کی نئی لہر دوڑا رہی ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں پر ان پرندوں کی چہچہاہٹ اور پرواز سے مناظر مزید دلکش اور خوبصورت دکھائی دینے لگے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق پردیسی پرندوں کی یہ آمد جہاں ماحولیاتی نظام کے لیے خوش آئند ہے وہیں کسانوں اور شکاریوں کے لیے بھی توجہ کا مرکز ہے۔ قدرتی مناظر کے دلدادہ افراد ان پرندوں کو دیکھنے کے لیے کھیتوں اور کھلیانوں کا رخ کر رہے ہیں۔
ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ یہ پرندے مقامی ماحولیات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی موجودگی سے نہ صرف حیاتیاتی توازن بہتر ہوتا ہے بلکہ قدرتی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان نایاب اور پردیسی پرندوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ قدرتی خزانہ برقرار رہ سکے۔



