تمام مسلمان ختم نبوت پر متفق ہیں، یہ معاملہ مسلمانوں کی ’’ریڈ لائن‘‘ ہے، پیر عرفان مشہدی

برمنگھم: خاتم کا مطلب ہے مہر لگانے والا اور خاتم النبیین کا معنی سب سے آخری نبی کے ہیں یعنی ان کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ مبارک ثانی کیس میں الجھنیں پیدا نہ کی جائیں، اسے آئین پاکستان کے مطابق حل کیا جائے۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور یہ تعلق ایک ایمانی اور جذباتی تعلق ہے جس پر کسی قسم کا کوئی سوال ہی ممکن نہیں ہے اور یہ معاملہ مسلمانوں کی ریڈ لائن ہے۔منکرین ختم نبوت آئین پاکستان کے مطابق غیر مسلم قرار دیئے جا چکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار معروف اسکالر پیر سید عرفان شاہ مشہدی نے معروف مبلغ اسلام اور امام المدینہ مسجد و انسٹیٹیوٹ کے سربراہ کے بھائی کی دعوت ولیمہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاح کھلے دل کے ساتھ ہونی چاہئے، فاضل عدالت عظمیٰ نے اپنے متعلقہ فیصلوں میں آئین کو مدنظر نہیں رکھا کہ جس کی رو سے منکرین ختم نبوت کوئی ادارہ بنا سکتے ہیں نہ اپنے دین کی تبلیغ کر سکتے ہیں جب کہ فیصلوں میں منکرین ختم نبوت کو بند کمرے میں تبلیغ کرنے کی اجازت دے دی۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کے جو تحفظات ہیں انھیں دور کیا جائے، انہوں نے کہا کہ منکرین ختم نبوت کا فرقہ پوری امت مسلمہ کو غیرمسلم کہتا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت اپنے پورے فیصلے پر نظرثانی کرے تمام مسلمان ختم نبوت پر متفق ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے میں ترمیم آئین پاکستان کے مطابق کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے پیرے ایک دوسرے سے متصادم ہیں، فاضل چیف جسٹس نے غلطی تسلیم کرکے شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول حکومت اور عدالت جب اپنا حقیقی کردار ادا نہ کرے تو عوام میں اشتعال پھیلتا ہے، جج کو دباؤ میں فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکا یہ واضح ارشاد ہے کہ ’’لانبی بعدی‘‘ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اسی طرح قرآن مجید کی ایک سو سے زیادہ آیات مبارکہ میں ختم نبوت کا جامع انداز میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔بے شک ہر مسلمان کا ختم نبوت پر عقیدہ اور ایمان ہے۔ اس حوالے سے احادیث نبویﷺ کے مستند حوالے موجود ہیں کہ اگر کوئی شخص حضور نبی کریمﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے تو وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج ازاسلام ہے، نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر ہے۔

آج ایک نقطے پر پوری قوم متحد ومنظم ہے اگر اسی طرح ہمارے دوسرے ریاستی، انتظامی ادارے بھی کسی مسئلہ کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے غلطی تسلیم کرتے ہوئے اصلاح احوال کی جانب قدم بڑھائیں تو آئین و قانون کی عمل داری کے ساتھ پورا نظام درستگی سے چلتا رہے وگرنہ اس اہم مسئلہ پر قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے احتجاج کا حق رکھتی ہے اور پھرپور احتجاج کرے گی ،قوم اپنے آئین پاکستان پر عمل درآمد چاہتی ہے، اس پر عمل درآمد ہی ہمیں امن کی راہ دکھاتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button