مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے کاروباری طبقے اور شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا

جہلم: ملک میں جاری مہنگائی کی بدترین صورتحال اور غیر یقینی معاشی حالات نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ کاروباری طبقے کو بھی سنگین مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور پیداواری لاگت کے بڑھنے سے کاروباری افراد شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مہنگائی کے باعث عوام کی خریداری کی قوت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔
جہلم شہر کی معروف کاروباری شخصیات نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور توانائی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے نے تاجروں کے لیے کاروبار کرنا نہایت مشکل بنا دیا ہے۔ موجودہ حالات میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے معیشت کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
کاروباری شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ صنعت کار اور تاجر مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں، اور حکومتی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال نے ان کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ توانائی کے بحران، پیداواری لاگت میں اضافے اور معاشی پالیسیوں میں عدم استحکام نے نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ پوری قوم کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
کاروباری افراد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے تو معیشت کی یہ گراوٹ مزید سنگین اور طویل مدتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق، معیشت کی بحالی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو پالیسیوں میں استحکام، توانائی کے بحران کا حل، اور ٹیکسوں میں کمی جیسے اقدامات فوری طور پر اٹھانے ہوں گے۔
مہنگائی اور بے قابو قیمتوں نے عام شہریوں کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال نے پورے معاشرے کو گہرے معاشی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔
کاروباری طبقے اور شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ معیشت کی بحالی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے تاکہ معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے اور عوام اور تاجروں کو درپیش مشکلات ختم ہو سکیں۔



