جہلم میں غیر قانونی تعمیرات عروج پر، کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے حکومتی خزانے کو کروڑوں کا نقصان

جہلم سمیت ضلع بھر میں نقشوں کی منظوری کے بغیر کمرشل اور رہائشی عمارتوں کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ آئے روز ہونے والے انکشافات کے باوجود غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افراد اور رشوت لے کر انہیں سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے فائدہ پہنچانے والے متعلقہ محکموں کے افسران و ملازمین کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس سے حکومت پنجاب کو ہر ماہ لاکھوں کروڑوں روپے کے واجبات کی مد میں نقصان کا سامنا ہے۔

شہریوں کے مطابق بلڈنگ انسپکٹر، محکمہ مال اور ڈپٹی کمشنر آفس کی مختلف برانچوں کے چند کرپٹ افسران و ملازمین نے غیر معمولی طور پر اثاثے بنائے ہیں۔ جو ملازمین چند سال پہلے موٹر سائیکل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، آج ان کی اولادیں مہنگی گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں اور یہ خود محلات نما گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی تنخواہیں ان کے ماہانہ اخراجات کے مقابلے میں نہایت کم ہیں، لیکن رشوت کے ذریعے یہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عوامی شکایات کے باوجود ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔

میونسپل کمیٹی اور ضلع کونسل کی بلڈنگ برانچوں کے بعض افسران اور اہلکاروں نے رشوت کے ذریعے بے تحاشہ مال جمع کیا ہے، لیکن ان کے اثاثوں کی جانچ پڑتال نہیں ہو رہی۔ ان کی کرپشن کی وجہ سے دونوں بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں۔ بجلی کے بل، ملازمین کی تنخواہیں، پینشنرز کے واجبات اور دیگر مالی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ شہر اور مضافاتی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی بڑی کمرشل عمارتوں اور کوٹھیوں کے لیے نقشے اور کنورژن فیس کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس سے گزشتہ چند ماہ میں حکومت کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

دو سال قبل سابق ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی کی جانب سے یہ ہدایت جاری کی گئی تھی کہ سرکاری واجبات کی ادائیگی کے بغیر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے خلاف پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2022 کی دفعہ 172 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں، جس کے تحت تین سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

تاہم اس اعلان کے بعد نہ کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی غیر قانونی تعمیرات کو روکا جا سکا۔ اس کے برعکس کرپٹ افسران اور ملازمین بدستور اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں، جس کے باعث غیر قانونی تعمیرات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور صوبائی وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button