جہلم میں گراں فروشی عروج پر، ناقص اشیاء کی مہنگے داموں فروخت معمول بن گیا

جہلم شہر سمیت گردونواح میں قائم بازاروں میں گراں فروشی عروج پر، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت، اندرون شہر کے بازاروں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ناقص اشیاء کی مہنگے داموں فروخت معمول بن چکی ہے، عوام کمر توڑ مہنگائی میں معیاری اور سستی اشیاء خریدنے کی بجائے درجہ دوئم اور درجہ سوئم کی اشیاء درجہ اول کے نرخوںپر خریدنے پر مجبور ہیں۔
ان خیالات کا اظہار شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی، مذہبی اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے اخبارنویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع جہلم میں اس وقت 34 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ 34 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے گراں فروشوں کو 26 ہزار 5سو روپے جرمانہ کیا جو کہ آٹے میں نمک کے برابر ہے ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے گراں فروشی کے مرتکب 3 دکانداروں کو گرفتار کروایا اور فوٹو سیشن کرکے افسران کو سب اچھا ہے کی رپورٹس بھجوادیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ ریٹائرڈ اچھی شہرت کے حامل افسران کو پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ضلعی و تحصیل افسران کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی میں منڈیوں میں سبزی و فروٹ کی بولیاں کروانے کا پابند بنایا جائے تاکہ مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔



