جہلم میں گندم کی کٹائی جاری، تھریشر اور ہارویسٹر مالکان غریب کسانوں کا خون چوسنے لگے

جہلم: تھریشر اور ہارویسٹر مالکان غریب کسانوں کا خون چوسنے لگے، 5 سے 6 ہزار روپے فی گھنٹہ وصول کرنے میں مصروف، غریب کسان تھریشر مالکان کے سامنے بے بس، دوسری اشیاء کی طرح ان کے بھی سرکاری نرخ مقرر کیے جائیں اور ان پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ کسانوں کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں گندم کی کٹائی اور گہائی کا سیزن شروع ہو چکا ہے لیکن تھریشر اور ہارویسٹر مالکان منہ مانگے نرخ مقرر کر کے وصول کررہے ہیں اور مبینہ طور پر 5 سے 6 ہزار روپے فی گھنٹہ کے حساب سے کسانوں سے وصول کرر ہے ہیں جس کی وجہ سے غریب کسان جو کہ پہلے ہی مہنگے بیج و کھادیں ڈال کر عاجز آچکے ہیں۔
رہی سہی کسر اب تھریشر اور ہارویسٹر مالکان منہ مانگے نرخ وصول کر کے غریب کسانوں کا خون نچوڑنے میں مصروف ہیں۔
کسانوں کے وفد نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی حال رہا تو ہم حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری نرخوں پر گند م نہیں فروخت کر سکیں گے، اس لیے ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دوسری اشیاء کی طرح کسانوں کے استعمال میں آنے والی مشینری کے نرخ با ضابطہ مقرر کرے تاکہ کسانوں کو پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے ۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ہمارے مسائل پر سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو سرکاری نرخوں پر گندم فروخت کرنے سے گریز کریں گے۔



