بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ نے نبوت و رسالت کی عظیم عمارت کو مکمل فرمایا، عبدالقدیر اعوان

چکوال: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس سے امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے خطاب کیا جبکہ پروگرام کا آغاز صاحبزادہ نجیب اللہ اعوان نے تلاوتِ قرآن کریم سے کیا۔ بعد ازاں نعت خوانی کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ امیر عبدالقدیر اعوان نے خصوصی خطاب اور اجتماعی دعا فرمائی۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبوت و رسالت کی عظیم الشان عمارت میں نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ اس آخری اینٹ کی مانند ہے جس سے اس عمارت کی تکمیل ہوئی اور ختم نبوت پر مہر ثبت فرمائی گئی۔ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔

انہوں نے ماہ ربیع الاول میں نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور وصالِ مبارک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ولادت کے حوالے سے اکثریت 9 ربیع الاول کی تاریخ پر متفق ہے، جبکہ 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ کے وصالِ مبارک پر اتفاق پایا جاتا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی دس سالہ مدنی زندگی میں متعدد غزوات و سرایا پیش آئے اور آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ انتہائی جدوجہد، مشکلات اور آزمائشوں سے عبارت تھی۔ ان حالات کے باوجود آپ ﷺ نے ہمیشہ حق کو حق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنے اعمال اور طرزِ زندگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، خصوصاً سود کے معاملے میں ایسے راستے تلاش کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن کے ذریعے انسان بیک وقت اس سے فائدہ بھی اٹھائے اور نافرمانی سے بچنے کا دعویٰ بھی کرے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی محبت و عشقِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور اعمال کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔ جب بندہ قلبی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو ایسے حقائق اس پر آشکار ہوتے ہیں جنہیں ظاہری آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ نورِ ایمان انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اعمال کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دن میدانِ حشر میں اعمال تولے جائیں گے، لیکن صاحبِ ایمان اس دن سے پہلے ہی اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اللہ کریم کو معاف فرمانا محبوب ہے اور اس کی رحمت وسیع ہے، تاہم جب بات اتباعِ محمد الرسول اللہ ﷺ کی آتی ہے تو انسان کے سامنے سب سے بڑا مقابلہ اپنی ذات اور خواہشات سے ہوتا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ انسان ایمان اور اسلام کا دعویٰ کرے، پیدائش کے وقت اس کے کان میں اذان دی جائے اور وفات کے وقت اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے، لیکن اس کی عملی زندگی نافرمانیوں سے بھری ہو۔ ایمان صرف مان لینے کا نام نہیں بلکہ اسے عملی طور پر اختیار کرنے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماہِ ربیع الاول میں نبی کریم ﷺ سے اظہارِ محبت کسی ایک موقع یا مہینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ زندگی کے ایک ایک لمحے اور ہر سانس کے ساتھ آپ ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ کی اتباع کا جذبہ ہونا چاہیے۔

وطنِ عزیز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی حفاظت کے لیے ہمارے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، اللہ کریم ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور وطنِ عزیز کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہر پاکستانی کو ملک کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

واضح رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں منعقد ہونے والی یہ ربیع الاول کے پروگراموں کی آخری نشست تھی۔ اس سے قبل فیصل آباد، بہاولپور، وہاڑی، کوٹ ادو اور گوجرانوالہ میں بھی بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کے حوالے سے پروگرام منعقد کیے گئے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button