ربیع الاول کی خوشیاں ضرور منائیں، مگر اظہارِ محبت کا طریقہ سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق ہونا چاہیے، امیر عبدالقدیر اعوان

کوٹ ادو: شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ ماہِ ربیع الاول کی خوشیاں ضرور منائی جائیں، تاہم اظہارِ محبت کا طریقہ اور سلیقہ وہی ہونا چاہیے جو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور سمجھایا ہے۔ محبت کے اظہار میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کیا جا سکتا۔
وہ سنانواں کوٹ ادو میں ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم کے ڈیرہ پر منعقدہ جلسہ بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ سے خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب کر رہے تھے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اپنی زندگیوں سے شرک کو نکال کر تمام امیدیں اللہ کریم سے وابستہ کرنی چاہئیں، والدین کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور افلاس کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ بہترین طرزِ حیات اسوۂ حسنہ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امتی کا تعلق صرف دعوے سے نہیں بلکہ اتباع سے ہے۔ امتی ماننے والے کو کہتے ہیں، محض اپنی رائے رکھنے والے کو نہیں۔ ایمان بھی ایک دعویٰ ہے اور ہمارے اعمال اس دعوے کے گواہ ہیں کہ ہمارا ایمان کتنا سچا اور کھرا ہے۔ کوئی دعویٰ اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اس کے ساتھ عملی شہادت موجود نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے دل میں یہ احساس پیدا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے احسان کی کیفیت بیان فرماتے ہوئے اللہ کی عبادت اس طرح کرنے کی تعلیم دی جیسے ہم اسے دیکھ رہے ہوں۔ اگر یہ کیفیت پیدا ہوجائے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حضور محسوس کرے تو اس کے اعمال اور افکار میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ تعلیماتِ محمد الرسول اللہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے اپنے سینوں کو کیفیاتِ محمد الرسول اللہ ﷺ سے مزین کرنا چاہیے اور اپنے قلوب کو انواراتِ محمد الرسول اللہ ﷺ سے منور کرنا چاہیے۔ اگر انسان اپنے اعمال و افکار کو سامنے رکھتے ہوئے معیتِ باری تعالیٰ کی کیفیت کو اختیار کرے تو معاشرے کے بہت سے فتنے اور مسائل خود بخود درست ہوتے چلے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم کی باتیں آج بہت سے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہیں، لیکن موت کا وقت آنے پر حقیقت واضح ہوجائے گی، تاہم اس وقت عمل کی مہلت باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم کے صدقۂ جاریہ کی قبولیت کے لیے دعا کرتے ہوئے ملک رضا ربانی کھر، ان کے خاندان اور عزیز و اقارب کے لیے اجر و ثواب کی دعا کی۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی نیک کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کے ذریعے مخلوقِ خدا کے لیے آسانی اور سکون کا ذریعہ بنائے۔



