اظہارِ محبت رسول ﷺ کو محض روایات تک محدود نہ کیا جائے، امیر عبدالقدیر اعوان

فیصل آباد: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ آج بھی حضرت محمد ﷺ روضہ اطہر میں اسی طرح جلوہ افروز ہیں جیسے اس دار دنیا میں جلوہ افروز تھے۔ اگر کوئی شخص صدق دل کے ساتھ وہاں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے تو اللہ کریم حضور اکرم ﷺ کے صدقے اسے معاف فرما سکتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے فیصل آباد کیولیم مارکی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضری کے لیے نہاں خانۂ دل میں سچی تڑپ اور اخلاص لے کر جاتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہماری اکثریت سچے جذبے کے ساتھ حاضری دیتی تو ہمارے معاشرے میں انحطاط کی یہ کیفیت نہ ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں حج اور عمرہ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر معاشرتی بگاڑ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہم ہوں گے، ویسے ہی ہمارے صاحبِ اختیار ہوں گے۔ وطنِ عزیز میں ہر روز ہمارے جوان قربان ہو رہے ہیں، جبکہ بحیثیت مجموعی ہمارے کردار اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ اظہارِ محبتِ رسول ﷺ کو بھی محض رواج اور رسومات کی نذر کر دیا گیا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ قرآنِ کریم کی تعلیم یہ ہے کہ جب تک انسان اپنے معاملات میں رسولِ اکرم ﷺ کو اپنا منصف تسلیم نہ کرے، اس وقت تک ایمان کا حقیقی تقاضا پورا نہیں ہوتا۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دل زنگ آلود ہو جائیں تو اس زنگ کو دور کرنے والی بنیادی چیز اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ کریم کے ذاتی نام کا ذکر کثرت سے کیا جائے، کیونکہ ذکرِ الٰہی دلوں کو پاکیزگی اور سکون عطا کرتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے قرآنِ کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے ساتھ ساتھ ان افراد کی بھی فضیلت بیان فرمائی ہے جو نیکی میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اس کا قرب بھی نصیب ہوتا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے شرکاء کو ذکرِ قلبی کا طریقہ سکھایا اور اس کی اہمیت پر زور دیا۔ بعد ازاں انہوں نے ظاہری بیعت بھی فرمائی۔
آخر میں ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔



