دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ مضبوط دفاع اور زراعت کے فروغ کی ضرورت ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ اسلام ہمیں اپنے آپ کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ تم ان دشمنوں کو نہیں جانتے لیکن اللہ تعالیٰ انہیں جانتے ہیں، اس لیے امت مسلمہ کو ہر لحاظ سے مضبوط اور باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بحیثیت امت مسلمہ ہمیں تدبر اور مضبوط پالیسیز بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات معاشی تنگی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم شعبہ زراعت کو فروغ دیں، کسانوں کو سہولیات فراہم کریں اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ فصلیں اگائیں تاکہ ملک میں خوراک کی کمی پیدا نہ ہو۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ رمضان المبارک ہو یا غیر رمضان، ہمارا معاشرہ بظاہر مسلمان ہے لیکن معاملات میں وہ فرق نظر نہیں آتا جو ایک اسلامی معاشرے کی پہچان ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس بابرکت مہینے میں اپنے بندوں پر بخشش کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی میں مال و دولت کی اہمیت ضرور ہے لیکن جتنا انسان کا مرتبہ اور حیثیت بڑھتی ہے اتنا ہی اس کا حساب بھی بڑھ جاتا ہے۔ قیامت کے دن انسان کے اپنے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے کہ کہاں کہاں نافرمانی کی گئی۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ حرمت والے مہینوں میں جنگوں کا ہونا بھی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ نیک اعمال انسان کی اصلاح کا سبب بنتے ہیں اور معاشرے میں بھلائی کو فروغ دیتے ہیں جبکہ برے اعمال برائی کو جنم دیتے ہیں اور گناہ مزید گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخرت اصل زندگی ہے جبکہ دنیا اس کا سایہ اور عارضی مرحلہ ہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ اختیار ختم ہونے سے پہلے نیک اعمال کی طرف رجوع کرے۔ ذکر الٰہی ایسا عمل ہے جو انسان کو غفلت سے بچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
آخر میں امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔



