جہلم میں شب برات کے بابرکت موقع پر ایک روح پرور اور عقیدت سے بھرپور منظر دیکھنے میں آیا

جہلم میں شب برات کے بابرکت موقع پر ایک روح پرور اور عقیدت سے بھرپور منظر دیکھنے میں آیا، جب شہریوں کی بڑی تعداد شہر کے مرکزی قبرستان کا رخ کرتی نظر آئی۔
اندھیری رات میں جلتے چراغ، ہاتھوں میں پھول اور لبوں پر دعائیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہ رات صرف عبادت کی نہیں بلکہ اپنے بچھڑ جانے والوں کو یاد کرنے کی بھی ہے۔
شہری اپنے مرحوم عزیز و اقارب کی قبروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے، چادریں چڑھاتے اور ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی میں مصروف دکھائی دیے۔ قبرستان کی فضا درود و سلام، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں سے معطر ہو گئی، جبکہ ہر آنکھ اپنے پیاروں کی جدائی میں نم محسوس ہوئی۔
اس موقع پر شہریوں نے مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
شبِ برات کے اس روحانی اجتماع میں بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوان اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رات نہ صرف عبادت کی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنے اسلاف کی یاد، دعا اور ایصالِ ثواب کی اہمیت سکھانے کا ذریعہ بھی بنتی جا رہی ہے۔
شبِ برات کے اس پُرنور موقع نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ موت کے بعد بھی دعا کا رشتہ ختم نہیں ہوتا، اور اپنے مرحوم پیاروں کو یاد رکھنا دراصل زندہ دل ہونے اور روحانی وابستگی کی ایک خوبصورت علامت ہے۔



