جہلم میں ریڑھی بازار کے قیام نے درجنوں محنت کش ریڑھی بانوں کے دلوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑا دی

9
جہلم شہر کے شاندار چوک اور برلب جی ٹی روڈ جادہ کے مقام پر قائم کیے گئے ریڑھی بازاروں نے درجنوں محنت کش ریڑھی بانوں کے دلوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ طویل عرصے سے روزگار کے مسائل اور سڑکوں پر بے یقینی کا شکار ریڑھی بانوں کے لیے یہ منصوبہ ایک امید کی کرن ثابت ہوا ہے، جس پر ریڑھی بان خوشی سے نڈھال نظر آ رہے ہیں۔
ریڑھی بازار کے قیام کا مقصد محنت کش طبقے کو باعزت روزگار فراہم کرنا اور شہر میں ٹریفک و تجاوزات کے مسائل کو کم کرنا تھا۔ تاہم ریڑھیاں تیار کرنے والے ٹھیکیدار کی جانب سے کباڑ سے خریدے گئے ٹائر اور رم استعمال کر کے انہیں قابلِ استعمال قرار دینے کی وجہ سے ریڑھی بانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریڑھیاں آگے پیچھے کرتے وقت نہایت بھاری اور غیر متوازن ہو جاتی ہیں، جس سے نہ صرف محنت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ریڑھی بانوں نے کہا کہ وہ دن رات محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، ایسے میں ناقص سامان ان کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کروائیں اور ریڑھیوں کی تیاری میں مبینہ کرپشن کرنے والے عناصر کو منظرِ عام پر لایا جائے تاکہ محنت کشوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہو سکے۔
ریڑھی بانوں نے امید کا اظہار کیا کہ اگر حکومت اس منصوبے میں اصلاحات کرے اور معیاری، ہلکی ریڑھیاں فراہم کرے تو یہ ریڑھی بازار واقعی محنت کش طبقے کے لیے ایک مثالی منصوبہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس اقدام کو مجموعی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے محنت کشوں کے لیے نہایت ضروری ہیں، تاہم ان پر درست اور دیانت دار عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔
شہری حلقوں نے بھی ریڑھی بانوں کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، کیونکہ یہی طبقہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔



