دینہ شہر اور گردونواح میں ناقص آئل میں چپس اور چکن بروسٹ کی تیاری عروج پر

46
دینہ شہر اور اس کے گردونواح میں ناقص اور بار بار استعمال ہونے والے آئل میں چپس اور چکن بروسٹ کی تیاری کھلے عام جاری ہے، جو نہ صرف عوامی صحت کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے بلکہ کینسر اور دل کی بیماریوں جیسے موذی امراض کا سبب بھی بن رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دینہ شہر میں شام ڈھلتے ہی مختلف مقامات پر ناقص آئل میں چپس اور چکن بروسٹ کی تیاری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ناقص آئل کی بدبو اس قدر شدید ہوتی ہے کہ سڑک سے گزرنا بھی محال ہو جاتا ہے، تاہم اس سنگین صورتحال کے باوجود محکمہ پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم کی جانب سے مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں اکثر اوقات صرف رسمی دورہ کر کے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی سب کچھ ٹھیک ہونے کی رپورٹ اعلیٰ افسران کو ارسال کر دیتی ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق ناقص اور جلایا ہوا آئل انسانی جسم کے لیے نہایت خطرناک ہے، جو دل کے امراض، معدے کی خرابی اور کینسر جیسی جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ اس کے باوجود ایسے کھانوں کی تیاری اور فروخت جاری رہنا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم کی ٹیم کے علم میں سب کچھ ہونے کے باوجود کارروائی نہ کرنا ایک تشویشناک امر ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ یا تو محکمہ میں تعینات ایف ایس او اور اے ایف ایس او مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں یا پھر معاملہ محض غفلت تک محدود نہیں۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ٹیم میں شامل بعض افراد کارروائی سے قبل ہی دکانداروں کو آگاہ کر دیتے ہیں، جس سے پوری مہم مشکوک نظر آتی ہے۔
شہریوں کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم کی مبینہ نااہلی نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عوام کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ دینہ کی عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ صفا عابد سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



