آج معاشرے میں انصاف کے حصول کے لیے بھی ظلم کیا جا رہا ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ آج معاشرے میں انصاف کے حصول کے لیے بھی ظلم کیا جا رہا ہے۔جیسے آگ کو آگ سے بجھانے کی کوشش ہو جو کہ نا ممکن عمل ہے۔ اللہ کریم نے ہمیں دین اسلام عطا فرمایا اس حق کا اقرار کرلینے کے بعد بھی ہم شرمندہ شرمندہ سے مسلمان ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سر براہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادیان باطلہ کے ماننے والے ہم سے زیادہ یقین کے ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں حالانکہ دین اسلام ہر بندے کو عقیدہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔آج کا بہت بڑا دھوکہ یہ ہے کہ انسانیت ہی مذہب ہے جبکہ اسلام نے انسانیت کے اسلوب سکھائے اگر انسانیت میں سے اسلام کو نکال دیا جائے تو پیچھے صرف حیوانیت رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستِ اسلامی ہر ایک کو زندہ رہنے اور عقیدہ رکھنے کا حق دیتی ہے۔کسی پر کوئی ذبردستی نہیں کی جاتی۔جہاں ان کی جان،مال اور عزت کی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے وہاں ان کی عباد ت گاہوں کی بھی ریاست ذمہ دارہے۔ہمیں اپنی حیثیت اپنا اقتدار بہت عزیز ہے، ہم بھول جاتے ہیں کہ بڑے بڑے مقتدر لوگ دنیا میں آئے اور فنا ہو گئے ہمیں بھی اس فانی جہان کو چھوڑ کر ایک دن جانا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ یہ حکومتیں یہ طاقتیں یہ اقتدارو اختیارات ہی سب کچھ نہیں ہے جس کو ہم نے زندگی کا حاصل سمجھ لیا ہے اور اسی کے پیچھے زندگی گزار دی ہے۔عوام چیخ و پکار کر رہی ہے کوئی سننے والا نہیں کسی کو عوام کے درد دکھائی نہیں دے رہے سب اپنی طاقت میں مگن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی غلطی کی اصلاح کے لیے انصاف کا پہلو اختیار نہیں کرتے بلکہ مزید ظلم کر رہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اس لیے ہے کہ غلطی دور ہو جائے۔ایسے کرنے سے نتائج تکلیف دہ ہی ہوں گے۔ اس طرح کوئی مثبت تبدیلی تو آنے سے رہی۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہم وہ راستہ اختیار کریں جو نبی کریم ﷺنے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے۔اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
یاد رہے کہ 8،9 نومبر بروز ہفتہ اتوار مرکز دارالعرفان منارہ میں ماہانہ روحانی اجتماع منعقد کیا گیا ہے جس میں پاکستان بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی تربیت کے لیے شرکت کرتے ہیں۔ امیر عبدالقدیر اعوان اتوار دن گیارہ بجے خطاب کریں گے اور اجتماعی دعابھی ہوگی۔ دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے۔



