جہلم کے گلی محلوں میں بھکاریوں کی بھرمار، انسدادِ گداگری قانون مؤثر نفاذ کا منتظر

جہلم: شہر بھر کے گلی محلوں، چوکوں، بازاروں اور سڑکوں پر بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بننے لگی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیوں اور باقاعدہ قانون سازی کے باوجود جہلم کے مختلف علاقوں میں گداگری کا رجحان ایک بار پھر سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے۔
خاص طور پر اندرونِ شہر اور مضافاتی دیہاتوں میں خواتین بھکاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف مقامی آبادیوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ قانون کے نفاذ پر سوالیہ نشان بھی ہے۔
یاد رہے کہ مارچ 2025 میں پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی زیرِ سرپرستی "انسدادِ گداگری ترمیمی بل” بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت پیشہ ور بھکاریوں اور انہیں اس دھندے پر مجبور کرنے والے سرپرستوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
قانون کے مطابق کسی فرد کو بھیک مانگنے یا بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے شخص کو تین سے پانچ سال قید اور تین سے پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اگر متاثرہ فرد بچہ ہو تو سزا پانچ سے سات سال قید اور سات لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اس قانون کے تحت صوبے بھر کی جیلوں میں بھکاریوں کے لیے خصوصی سیل (پیرکس) مختص کیے گئے ہیں، جہاں خواتین اور بچوں کے لیے علیحدہ علیحدہ انتظامات موجود ہیں۔ اس کے باوجود، زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گداگری کے خاتمے کے لیے قانون پر عمل درآمد کے بجائے محض کاغذی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے معاشی عوامل بھی گداگری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پسِ پردہ اہم وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق محض قانون سازی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر جامع اور انسانی بنیادوں پر مبنی حکمتِ عملی مرتب کرنا ہوگی، تاکہ گداگری کے اس ناسور کا مستقل حل ممکن ہو سکے۔
شہری حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس فوری طور پر انسدادِ گداگری قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور اس سماجی برائی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو سکھ کا سانس میسر آئے۔



