جہلم میں جی ٹی روڈ سے لوہے کے حفاظتی جنگلے غائب، حادثات معمول بن گئے

جہلم: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی انتظامیہ کی عدم توجہی اور دلچسپی کی وجہ سے جی ٹی روڈ جہلم لاہور موڑ، دینہ اور سوہاوہ پر نصب کیے گئے لوہے کے جنگلے متعدد مقامات سے غائب ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر حادثات کا سلسلہ جاری ہے۔

جی ٹی روڈ کے وسط میں واقع حفاظتی دیوار کے اوپر اور دونوں اطراف لگائے گئے لوہے کے جنگلے غائب کردیے گئے ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے یہ جنگلے چوروں اور نشئیوں کی جانب سے چوری کر کے مقامی کباڑیوں کو فروخت کر دیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مذکورہ سڑک پر مسلسل حادثات پیش آ رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بیشتر مقامات سے این ایچ اے کی انتظامیہ نے لوہے کے جنگلے نکال کر وزیرآباد منتقل کر لیے ہیں، حالانکہ جنگلے نصب کرنے کا مقصد شہریوں کو سڑک حادثات سے محفوظ بنانا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سوہاوہ دینہ اور جی ٹی روڈ جہلم لاہور موڑ کے مقامات پر اکثروبیشتر جنگلے غائب ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے جی ٹی روڈ پر حادثات معمول بن چکے ہیں۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین این ایچ اے سے درخواست کی ہے کہ جی ٹی روڈ سے غائب ہونے والے لوہے کے جنگلوں کا نوٹس لیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جی ٹی روڈ پر فوری طور پر لوہے کے جنگلے نصب کروا کر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ حادثات کی شرح میں کمی واقع ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button