سرکاری اداروں میں کرپشن کا راج، شہریوں کی شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہو سکی

جہلم کے سرکاری اداروں میں کرپشن کا راج قائم ہے جہاں "پیسہ پھینک تماشہ دیکھ” کے اصول پر کام ہو رہا ہے۔
رشوت نہ دینے والوں کو مختلف الزامات لگا کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے، لیکن جب رشوت دینے والے آگے آتے ہیں تو ان کے خلاف تمام اعتراضات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
صوبائی اور وفاقی محکموں کے ہر ملازم نے اپنے لئے الگ الگ ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ ایماندار ملازمین کو غیر فعال پوسٹوں پر تعینات کر دیا جاتا ہے، جبکہ کرپشن میں مہارت رکھنے والے اہلکاروں کو اہم عہدوں پر تعینات کر کے رشوت ستانی کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔
مختلف محکموں میں ہونے والے ٹھیکے بھی بھاری کمیشن کے عوض منتخب ٹھیکیداروں کو دیے جاتے ہیں۔ جو ملازمین کبھی سائیکل پر یا پیدل دفتر آتے تھے، آج ان کے پاس قیمتی گاڑیاں، پرتعیش لائف اسٹائل، قیمتی موبائل اور خوبصورت گھر ہیں، جو ان کی تنخواہ سے ممکن نہیں۔
متعدد بار شہریوں نے کرپشن کی نشاندہی کرنے کے لیے درخواستیں دیں، لیکن افسران ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کے بجائے کرپشن کی شکایات کرنے والے شہریوں کو مختلف طریقوں سے دفاتر میں بلا کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اور انہیں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ "کر لو جو کرنا ہے، ہم سب کو حصہ دیتے ہیں، ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈی جی اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور جہلم میں ڈی جی اینٹی کرپشن کی کھلی کچہری کا انعقاد کریں تاکہ کرپشن کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے۔



