مہنگائی نے سفید پوش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، سید خلیل حسین کاظمی

جہلم: ملک میں جاری شدید مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان نے سفید پوش اور غریب طبقے کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافے کے باعث متوسط طبقہ بھی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار معروف سماجی و سیاسی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی کم کرنے کے دعوے تو کرتی ہے، مگر عملی طور پر صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ملک بھر میں، خصوصاً جہلم جیسے شہروں میں اشیاء ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جب کہ بے روزگاری کا گراف بھی مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ حکومت عوام کے اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے غیر ضروری معاملات میں الجھی ہوئی ہے تاکہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے سنگین بحرانوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر معاشی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ترین ہو جائے گا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دعوے کرنے کی بجائے زمینی حقائق کا سامنا کرے اور کم از کم بنیادی ضرورت کی اشیاء مثلاً آٹا، چینی، گھی، دالیں اور سبزیاں سستی کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل کلاس طبقہ تیزی سے سفید پوش طبقے میں ضم ہو چکا ہے، جب کہ سفید پوش طبقہ خط غربت کو عبور کر چکا ہے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے مزید کہا کہ سیاستدان صرف اپنی کرسیوں کے تحفظ میں مصروف ہیں، عوامی مسائل ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گراں فروشی پر قابو نہ پانے والے انتظامی افسران کو فوراً تبدیل کیا جائے اور ان کی جگہ فرض شناس، ایماندار اور عوام دوست افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور عام آدمی کو کچھ ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button