محکمہ لیبر کی عدم دلچسپی، ضلع جہلم کے نجی اداروں میں ملازمین کا استحصال جاری

جہلم: محکمہ لیبر کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ضلع جہلم کے سینکڑوں کاروباری اداروں، نجی اسپتالوں اور پرائیویٹ سکولوں میں کام کرنے والے ملازمین کا استحصال جاری ہے۔ حکومتی قوانین کے مطابق پنجاب حکومت نے جو تنخواہیں اور کام کے اوقات مقرر کیے ہیں، ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور محنت کش چند ہزار روپے میں گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں جنگل کا قانون نافذ ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ محکمہ لیبر کے ضلعی افسران کی غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے نجی اداروں، کاروباری مراکز، نجی اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے مالکان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
نجی اداروں کے محنت کشوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب نجی اداروں کے مالکان کو ملازمین کے بینک اکاؤنٹس کھلوانے کا پابند بنائے تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آ سکیں۔
محنت کشوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے روزانہ 8 گھنٹے کام اور 26 دن کام کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، مگر مالکان 12 سے 13 گھنٹے مشقت کرواتے ہیں، اور اگر کوئی محنت کش چھٹی کرے تو اس کی تنخواہ سے کٹوتی کر لی جاتی ہے۔ محکمہ لیبر ضلع جہلم کے ذمہ داران کی اس حوالے سے کارکردگی صفر ہے۔
جہلم شہر کی سماجی، رفاہی اور فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور صوبائی محتسب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔



