جہلم میں رمضان المبارک کے دوران سوئی گیس کی بندش اور پریشر میں کمی، صارفین سراپا احتجاج

جہلم: محکمہ سوئی نادرن گیس پائپ لائن حکام کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث جہلم شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی سوئی گیس کی بندش اور پریشر میں شدید کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس پر صارفین شدید احتجاج کر رہے ہیں۔ غیر اعلانیہ گیس بندش اور پریشر کی انتہائی کمی کے باعث شہریوں کو سحری اور افطاری کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عوامی شکایات کے مطابق رمضان المبارک کے آغاز سے ہی گیس کی بندش اور پریشر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے خواتین کو امور خانہ داری میں مشکلات درپیش ہیں۔ سحری و افطار کے اوقات میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
شہریوں اور عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور سحری و افطار کے اوقات میں بلا تعطل گیس فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے لیے جاری کردہ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کروایا جائے اور محکمہ سوئی گیس کی جانب سے جاری کردہ شیڈول پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو اس غفلت کے مرتکب ہیں اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
صارفین نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر سوئی گیس کی غیر اعلانیہ بندش اور پریشر میں کمی کا نوٹس لے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو مزید پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



