پنجاب میں پتنگ بازی ناقابل ضمانت جرم قرار، سزاؤں اور بھاری جرمانے کا بھی اعلان

جہلم سمیت پنجاب بھر میں پتنگیں بنانے، فروخت کرنے اور اڑانے والوں کے خلاف قانون کا شکنجہ مزید سخت کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی نے پتنگ بازی پر مکمل پابندی کے لیے ترمیمی ایکٹ 2024 منظور کر لیا، جس کے تحت پتنگ بازی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے مقرر کیے گئے ہیں۔

پنجاب میں پتنگ بازی کی ممانعت کا ترمیمی ایکٹ 2024 منظور کر لیاگیا جس کے مطابق پتنگ بازی ناقابل ضمانت جرم قراردے دیا گیا ہے جبکہ خلاف ورزی پر کم از کم 3 سال سے 7 سال تک قید کی سزا ہوگی۔

ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق پتنگ بازی، تیاری، فروخت و نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔پابندی کا اطلاق پتنگوں، دھاتی تاروں، نائلون کی ڈوری، تندی اور پتنگ بازی کے مقصد کے لیے تیز دھار مانجھے کے ساتھ تمام دھاگوں پر ہوگا۔

پتنگ بازی سے متعلقہ مواد کی تیاری اور نقل و حمل پر مکمل پابندی ہوگی۔ پتنگ اڑانے والے کو 3 سے 5 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں ہوں گے۔ پتنگ ساز اور ٹرانسپورٹر کو 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں ہوں گے۔ پتنگ بازی میں ملوث بچے کو پہلی بار 50 ہزار جرمانہ اور دوسری بار لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

پتنگ بازی کے دوران تیز دھار ڈور کے استعمال سے کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی ہر مکمل پابندی کا قانون منظور کروایا گیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button