ویزہ ایمنسٹی سکیم؛ پاکستانی خاندان کا 1 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ معاف

دبئی: متحدہ عرب امارات کی ویزہ ایمنسٹی سکیم میں پاکستانی خاندان کا 1 لاکھ 50 ہزار درہم (ایک کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) کا جرمانہ معاف ہوگیا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق سید عرفان نذر کی زندگی 2022ء میں اچانک ملازمت سے ہاتھ دھونے کے بعد اس وقت غیریقینی کی کیفیت میں آگئی جب 45 سالہ پاکستانی شہری کا ویزہ ان کے سابق آجر نے منسوخ کیا، جس نے انہیں، ان کی اہلیہ اور ان کے 5 بچوں کو مالی اور قانونی پریشانی میں ڈال دیا جب کہ پاکستان واپس آنا ان کے لیے کوئی آپشن نہیں تھا۔

بتایا گیا ہے کہ سید عرفان نذر 2000ء میں متحدہ عرب امارات آئے جب ان کے والد یہاں کام کرتے تھے اور اس کے بعد سے انہوں نے ایک دو نوکریاں بدلیں، جب وہ اپنی آخری ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تو وہ مواقع تلاش کرتے رہے لیکن کچھ نہ ملا، مالی تنگی نے انہیں اپنے دو بچوں کو سکول سے نکالنے پر مجبور کردیا، جیسے جیسے دن مہینوں میں بدلتے گئے نذر اور ان کا خاندان زندہ رہنے کے لیے دوستوں کی مہربانیوں پر منحصر رہا، تاہم ان کی مدد کے باوجود خاندان کے حالات خراب ہوتے گئے، بالآخر ان کے ویزوں کی میعاد ختم ہوگئی اور وہ غیرقانونی رہائشی بن گئے۔

پاکستانی شہری کا کہنا ہے کہ میں پاکستان میں اپنے آبائی شہر صرف چند بار گیا ہوں، ایک بار اپنی شادی کے لیے اور دوسری بار جب میرے والد اور والدہ کا انتقال ہوا، وہاں ہمارے لیے کوئی نہیں بچا، میں متحدہ عرب امارات چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس دوران میں نے ہر ممکن کوشش کی، لیکن نوکریاں نہیں تھیں، اس وقت تو میرا دل ٹوٹ ہی گیا جب یہ پتا چلا کہ بچے اب مزید سکول نہیں جاسکیں گے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، ان حالات میں ہمیشہ ان لوگوں کا شکر گزار رہوں گا جنہوں نے ہمارے ساتھ کھانا بانٹا، ان کے بغیر میں نہیں جانتا کہ ہم کیسے منظم رہ پاتے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے کرائے کے مکان کے بقایا جات بڑھنے لگے، مالک مکان صبر سے کام لے رہا تھا لیکن بلا معاوضہ کرایہ بڑھتا ہی چلا گیا، اس کے علاوہ ملک میں زائد قیام کے جرمانے 1 لاکھ 50 ہزار درہم ( 1 کروڑ 13 لاکھ 59 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے زیادہ تک پہنچ گئے، جرمانہ کچھ ایسا تھا جسے میں سمجھ نہیں سکتا تھا اور مجھے اندازہ نہیں تھا میں اسے کیسے ادا کرپاؤں گا، پھر یو اے ای ایمنسٹی ویزہ پروگرام کی صورت میں امید کی ایک کرن آئی۔

سید عرفان نذر کہتے ہیں کہ جب میں نے اس کے بارے میں سنا تو مجھے لگا کہ یہ اللہ کی طرف سے مدد ہے، عام معافی کے اقدام نے ویزوں کی میعاد ختم ہونے والے رہائشیوں کو بغیر کسی جرمانے کے اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کا موقع فراہم کیا، یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک لائف لائن تھی، پروگرام کے پانچویں دن میں نے اپنے خاندان کے ہمراہ العویر میں ایمنسٹی سنٹر گیا تاکہ ہم لیگل ہوسکیں، میں گھبرا گیا تھا لیکن وہاں موجود اہلکار مہربان اور معاملات کو سمجھنے والے تھے، انہوں نے اس عمل میں ہماری رہنمائی کی، جس کے بعد ہمارے خاندان کے ویزوں کو ریگولرائز کر دیا گیا اور ہمیں ملک سے باہر جانے کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا۔

بتایا جارہا ہے کہ ایمنسٹی سنٹر میں آؤٹ پاس حاصل کرنے کے بعد سید عرفان نذر کی قسمت فوری طور پر بدل گئی اور انہیں متحدہ عرب امارات کی ایک معروف پیکیجنگ مینوفیکچرنگ کمپنی Hotpack کے ساتھ سیلز ایگزیکٹو کے طور پر نوکری مل گئی، نئی پوزیشن نے انہیں ناصرف ایک مستحکم آمدنی فراہم کی بلکہ مزید محفوظ مستقبل کی راہ بھی ہموار کی، جب کہ ان کا اپنا ویزہ ریگولرائز ہو چکا تھا، اب وہ اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ویزہ حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہاٹ پیک کمپنی کے ڈپٹی جنرل مینیجر مجیب رحمان نے کہا کہ عرفان نذر کی کہانی بہت جذباتی تھی، ملازمت سے محروم ہونے کے بعد وہ بہت سے برے وقت سے گزرے، پھر بھی وہ کوشش کرتے رہے، جب جی ڈی آر ایف اے کے ایک اہلکار عبداللہ لشکری ​​نے نذر کا مجھ سے تعارف کرایا تو میں ان کے عزم سے متاثر ہوا، ان کا ہنر اور تجربہ بالکل وہی تھا جو ہم اپنی کمپنی میں تلاش کر رہے تھے۔

پاکستانی شہری نے کہا کہ جب اماراتی حکام نے اعلان کیا کہ عام معافی کا فائدہ اٹھانے والے اوور اسٹیئرز ایمنسی سکیم کی مقررہ مدت کے اختتام تک متحدہ عرب امارات میں رہ سکتے ہیں تو یہ توسیع ایک اور نعمت تھی، اس نے مجھے یہ جاننے کا وقت دیا کہ میں اپنے خاندان کے مستقبل کو کیسے محفوظ بناسکتا ہوں، سکیم کے ہر اضافی دن نے ہمیں استحکام کے قریب جانے کا موقع دیا، فی الحال اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ویزہ حاصل کرنے کے لیے پیسے بچانے پر میری توجہ مرکوزہے، میں اسے پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں کیوں کہ میں اگلے تعلیمی سال میں اپنے بچوں کو دوبارہ سکول میں داخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میں انہیں وہ تعلیم دینا چاہتا ہوں جس کے وہ مستحق ہیں۔

اپنی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی شہری نے یو اے ای میں ملنے والی حمایت اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مواقع کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس ملک نے مجھے دوسرا موقع دیا ہے، میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا، میرے بچے سکول واپس جائیں گے، ہمیں دوبارہ ایک مستحکم زندگی ملے گی، میں بس یہی چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button