مہنگائی اور معاشی تنگ دستی؛ جہلم میں دینی مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے امام بھی معاشی مشکلات سے دوچار

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی تنگ دستی نے جہاں دیگر مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کو پریشان کر رکھا ہے وہاں دینی مدارس کے اساتذہ و مساجد کے امام بھی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں مختلف مسالک کی سینکڑوں کے قریب چھوٹی بڑی مساجد موجودہیں جن کے امام موزن اور خدمت گار کی اکثریت معمولی وظیفہ پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ چند مساجد ایسی ہیں جن کے آئمہ کرام کو ماہانہ مناسب وظیفہ دیا جاتا ہے ان مساجد کے منتظمین کی طرف سے امام حضرات کو رہائشگاہیں بھی فراہم کی گئی جس سے مجموعی معاشی بد حالی ان پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی اور یہ اپناگزر بسر اہلخانہ کی کفالت ممکن بنائے ہوئے ہیں۔
تا ہم اکثریتی آئمہ کرام کو مساجد کے منتظمین کی طرف سے معمولی وظائف دیئے جا رہے ہیں جن میں اہلخانہ کی کفالت ممکن نہیں ہو پاتی اور انہیں نمازیوں کی طرف سے براہ راست معمولی مالی معاونت طلب کرنا پڑتی ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے مساجد کے امام اور خدمت کار کی تنخواہیں مقرر کی جائیں تاکہ انکی سفید پوشی کا بھرم قائم رہ سکے۔



