فیض احمد فیض نے برصغیر میں انقلابی شعور اور تحریک آزادی میں ولولہ پیدا کیا، مقررین

مانچسٹر: فیض احمد فیض نے برصغیر میں انقلابی شعور کو جنم دیا اور تحریک آزادی میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا۔ فیض نے قوموں کی آزادی، مساوات اور امنِ عالم کا جو پیغام دیا، عالمی سطح پر آج اس کی اشد ضرورت ہے۔ فیض شاعری کے ایک نئے دبستان کے بانی ہیں جس نے جدید اردو شاعری کو بین الاقوامی شناخت سے ہمکنا ر کیا۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے مانچسٹر آرگنائزنگ کمیٹی کے زیر اہتمام ’’ فیض ڈے‘‘ کی تقریب میں کیا۔ مقررین نے کہا کہ فیض کی نظمیں اور تحریریں آج بھی آمریت، معاشی استحصال، سماجی جبر اور سامراجی بربریت کے خلاف ایک غیر متزلزل مزاحمت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سامراجی ممالک اپنے استحصال کو دوام بخشنے کے لیے کمزور ممالک پر جنگیں مسلط کرتے ہیں۔ فیض کے فلسطین میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور فلسطینی عوام پانی کی ایک بوتل کے لیے گولیوں کی بُوچھاڑ سے گزر کر جاتے ہیں۔

تقریب سے اظہارِ خیال کرنے والوں میں لیورپول یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر اعزاز ملک، ظفر تنویر، طلعت گِل، وقاص بٹ، ذاکر حسین، حرسیب بینس، نذہت عباس، پرویز فتح، صابرہ ناہید، میاں محمد اعظم، محبوب الہی بٹ اور چوہدری پرویز مسیح شامل تھے۔ انقلابی کلام پیش کرنے والوں میں نامور ترقی پسند شاعر صابر رضا، ریاض کھوکھر میاں، ماہ جبیں غزل انصاری اور طاہر حفیظ شامل تھے۔ نظامت کے فرائض نامور ترقی پسند دانشور اور سابق کونسلر نصرالہ خان مغل اور ترقی پسند شاعرہ، ادیب نذہت عباس نے سر انجام دیئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نامور ترقی پسند دانشور اور لیور پوُل یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر عزاز ملک نے فیض احمد فیض کی کلام کا تاریخی حقائق کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح فیض کا کلام آفاقی حیثیت کا حامل ہے، دُنیا بھر کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کرتا ہے اور امن عالم کے لیے دُنیا بھر میں نیا ولولہ پیدا کرتا ہے۔

ظفر تنویر نے فیض احمد فیض اور صحافت پر روشنی ڈالتے ہوئے بنایا کہ فیض احمد فیض ایک عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کے صحافی بھی تھے، جنہوں نے سب سے پہلے 1938ء میں ادب لطیف کے پہلے مدیر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں میاں افتخار الدین نے پرگریسو پیپرز کی بنیاد رکھی اور پاکستان ٹائمز کا اجراء کیا تو اس کے پہلے ایڈیٹر بھی فیض احمد فیض ہی تھے۔

طلعت گِل نے فیض اور خواتین کی برابری کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے تفصیل سے روشنی ڈالی۔وقاص بٹ نے فیض احمد فیض کے یاسر عرفات سے تعلق، بیروت میں قومی آزادی کی تحریکوں کے عالمی علمبردار "لوٹس” کے ایڈیٹر کے طور پر برسوں خدمات سر انجام دینے اور فلسطین کے تحریک آزادی میں عملی شرکت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ذاکر حسین ایڈووکیٹ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف فیض کی شاعری کا فوکس وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے عوام کو حقیقی آزادی، مساوات، انصاف اور استحصال سے پاک معاشرے کا قیام تھا تو دوسری طرف وہ خود براہِ راست ٹریڈ یونیں تحریک کا حصہ تھے۔

اُنہوں نے مرزا محمد ابراہیم اور دیگر مزدور رہنماؤں کے ساتھ مل کر پاکستان پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریش کی بناد رکھی اور اس کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ ریلوے ورکوز یونین کے راہنما رہے اور پوسٹل ورکرز یونین کی بنیاد رکھی اور اس کے صدر رہے۔ اُنہوں نے کسان رہنما چوہدری فتح محمد کے ساتھ مل کر کسان تحریک میں بھی بھرپُور کردار ادا کیا۔

نذہت عباس نے فیض احمد فیض کی ترقی پسند تحریک میں نوجوانوں کی سمولیت اور حوصلہ افزائی کرنے، باالخصوص احمد سلیم اور فیض کے تعلق پر کیس سٹڈی پیش کیا۔حرسیب بینس نے فیض، سامراجی جبر اور قومی آزادی کی تحریکوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ پرویز فتح نے فیض ڈے منانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ۔

میاں محمد اعظم نے کہا کہ فیض چاہتے تھے کہ پاکستان ایک ایسا جدید، جمہوری اور ترقی یافتہ ملک بنے جہاں بسنے والے غریب مزدور، کسانوں، مذہبی اقلیتوں، عورتوں اور مظلوم، محکوم، پسے ہوئے طبقات کو تعلیم، صحت، روزگار، چھت اور بہتر مستقبل میسر ہو۔

محبوب الٰہی بٹ نے تقریب کے آخر میں شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فیض احمد فیض آزادی، حریت، عدل و انصاف اور مساوی بنیادوں پر ترقی، خوشحالی اور کامیاب مستقبل کی جدوجہد کا نام ہے۔ تقریب کے آخری حصے میں کلامِ فیض کی میوزک کی دہن میں گلوکار جگتار سنگھ شہری ،محبوب الٰہی بٹ،محمد گلزار نے فیض احمد فیض کے کلام پیش کئے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button