’مختصر تھا مگر سنہری دور تھا‘، ٹک ٹاکر شیرا کی وفات پر ہر آنکھ اشک بار

سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک سے شہرت حاصل کرنے والے معروف کردار شیرا نے سینچر کے روز ایک روڈ حادثے میں زندگی کی بازی ہار دی ہے لیکن ان کے جانے کے بعد بھی شیرا کا کردار اور ڈائیلاگ مشہور ہو رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر صارفین ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

جہلم کے شاندار موبائل نامی ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے شہرت پانے والے شیرا کا اصل نام کامران تھا اور وہ شاندار موبائل کے مالکان کے ساتھ بطور گارڈ فرائض سر انجام دیتے تھے۔

بی بی سی جہلم کے مطابق شیرا ایک ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد قومے میں تھے اور اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

شیرا عرف کامران کا تعلق ضلع گجرات کے نواحی علاقے سرائے عالمگیر کے گاؤں نوتھیاں قریشیاں سے تھا اور وہیں پر ان کی نماز جنازہ اور تدفین کی گئی جس میں ان کے مداحوں نے بھی شرکت کی۔

شیرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک اور پھر انسٹاگرام پر شہرت حاصل کی، جہاں مختلف وائرل ویڈیوز میں ان کی شخصیت نے بہت سے مداحوں کے دل موہ لیے، انہوں نے ٹک ٹاک پر کئی ٹرینڈز متعارف کروائے۔

وہ ان دنوں ڈیرہ ریسٹورنٹ میں سکیورٹی انچارج کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، شیرا اس سے قبل جہلم میں شاندار موبائل میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی پرکشش شخصیت نے برانڈ کی آن لائن تشہیر میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ارباز نعیم کو فائدہ ہوا۔

واضح رہے کہ مختلف کاروباروں سے منسلک افراد ٹک ٹاک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کاروبار کی تشہیر کے لیے مختلف قسم کے پبلسٹی سٹنٹس کرتے ہیں تاکہ وہ مشہور ہو سکیں۔

شیرا کی وفات پر سوشل میڈیا صارفین اور ان کے فینز غم اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے فرخ جاوید نامی صارف نے لکھا کہ ’سچ تو یہ ہے کہ شیرا کا لیول باس سے اوپر تھا، لیکن روزی روٹی انسان سے کیا کچھ کرواتی ہے۔ اللہ پاک آپ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آپ نے مایوس قوم کو بیش بہا تفریح دی۔‘

ایک اور صارف عمر راؤ نے اس بارے میں لکھا کہ ’شائد ارباز اس طرح سے پہلے کبھی نہ رویا ہو، لیکن شیرا کی موت نے سب کو غمزدہ کر دیا ہے۔‘

فزا نامی صارف نے شیرا کی موت کی خبر شئر کرتے ہوئے لکھا:

’بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘

غلام مہین الدین نامی صارف نے لکھا کہ ’ڈرنکیں، دودھ پتیاں اور راجہ رانی جیسے مشہور ڈائلاگز کے پیچھے کی آواز اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’مختصر تھا مگر سنہری دور تھا۔‘

صائم نامی صارف نے لکھا کہ ’شیرا خدا آپ کو جنت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔‘

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button