جہلم میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بلز نے صارفین کو بھکاری بنا دیا

جہلم: بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بلز نے صارفین کو بھکاری بنا دیا۔ ہوشربا مہنگائی اور آسمان سے باتیں کرتے بجلی بلز کے ہاتھوں غریب، امیر، صنعتکار اور کسان بھی پریشان ہیں، حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں، عوام کی چیخوں کو سننے کی بجائے حکمران چین کی بانسری بجانے میں مصروف ہیں۔
ان خیالات کا اظہار جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی، کارروباری اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے جہلم پریس کلب کے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کے معیشت کو ٹھیک کرنے کے بلند و بانگ دعوے تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافہ کرکے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اور مہنگائی کم کرنے کی تمام تر کوششیں حکومت کی ناکام پالیسوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اشیاء خوردو نوش ، سبزی، چکن سمیت اشیاء ضروریہ عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہے، حکمران اپنے اللے تللے کارندوں کو ختم کرنے کو تیار نہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کا بتا کر عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالے جا رہی ہے، خیبر سے کراچی تک ہر آدمی کیلئے بجلی بلز کی ادائیگیاں انتہائی دشوار ہوتی جارہی ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے حکمرانوں سے مطالبہ کیاہے کہ بجلی کے بلوں میں غیر معمولی کمی کی جائے اور اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں کمی لائی جائے تاکہ غریب سفید پوش ، مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے بچوں کو 2 وقت کی روٹی مہیا کرسکیں۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



