برطانوی حکومت اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی معطل، غزہ جنگ روکنے کیلئے اقدامات کرے، لارڈ قربان

لندن،لوٹن: لبرل ڈیموکریٹس لارڈ قربان نےغزہ کی صورتحال سے متعلق شاہ برطانیہ کے بیان کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ غزہ میں 39ہزارسے زائد فلسطینی شہید،90ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، اسرائیلی حملوں کے دوران ہر10منٹ میں ایک بچہ جاں بحق یازخمی ہورہاہے،مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشددپرفکرمند ہوں،یواین امدادی ادارے کیلئے برطانوی فنڈنگ خوش آئند ہے، برطانوی حکومت اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی معطل کرکے غزہ جنگ روکنےکیلئے اقدامات کرے۔

ہاؤس آف لارڈ میں خطاب کے دوران انہوں نےغزہ کی موجودہ صورتحال کو ہاؤس آف لارڈز میں ہونے والی ایک بحث میں اٹھاتے ہوئے شاہ برطانیہ کی تقریر کا حوالہ دیا کہ جنہوں نے غزہ کی صورتحال اور مسئلہ فلسطین کے بارے میں بات کی تھی۔

لارڈ قربان حسین نے کہا کہ اس ہولناک صورتحال کے حوالے سے شاہ کے جذبے اور لہجے کو دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں نے بے حد سراہا ہے۔ لارڈ قربان حسین نے نشاندہی کی کہ دنیا تقریباً 300 دنوں سے غزہ میں رونما ہونے والے انسانی المئے کے کچھ انتہائی ہولناک مناظر دیکھ رہی ہے اور جہاں 39ہزار سے زائد شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں اور90ہزار سے زائد زخمی ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، یونیسیف کے مطابق اسرائیلی حملوں میں غزہ میں ہر 10 منٹ میں ایک بچہ ہلاک یا زخمی ہوتا ہے۔

لارڈ قربان حسین نے کہا کہ کچھ دن پہلے اقوام متحدہ کے زیرانتظام اسکول پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 22 افرادمارے گئے۔ بم دھماکوں میں زندہ بچ جانے والوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ شہریوں کو بیماریوں اور غذائیت کی کمی کا سامنا ہے، پولیو کی وجہ سے بھی اموات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کیلئے برطانوی فنڈز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

لارڈ قربان نے کہاکہ وہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور پھیلاؤ کے بڑھتے ہوئے لہر پر بھی بہت فکر مند ہیں، یہ انسانی تباہی اب ختم ہونی چاہئے۔ برطانوی حکومت اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک کر اور فوری جنگ بندی کیلئے اپنے شراکت داروں کیساتھ مل کرکام کرے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں تک انسانی امداد پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ضرورت ہے۔ یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی کا وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری مل کر فلسطین اور اسرائیل کے لوگوں کیلئے ایک طویل المدتی، پرامن اور قابل عمل حل پر عمل کرے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ہمیں 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے آخر میں سوال اٹھایا کہ کیا برطانوی حکومت فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کرنے کیلئے ٹائم فریم کا اشارہ دے گی؟ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو، گیلنٹ اور حماس رہنماؤں کیخلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں، کیا وزیر برطانوی حکومت کے موقف کو واضح کر سکتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے میں کس طرح مدد کرنا چاہتے ہیں؟

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button