جہلم میں سود کا دھندہ نئے طریقے سے شروع، سودی مافیا شہریوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنے لگا

جہلم شہر اور گردونواح کے علاقوں میں سود کا دھندہ نئے طریقے سے شروع، غیر قانونی سودی کارروبار میں ملوث افراد نے شہریوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنا شروع کررکھا ہے، سادہ لوح شہریوں کو شکار بنانے کے لئے ایجنٹ بھرتی کر لئے گئے۔
گھر یلو اشیاء ایل سی ڈیز ،پنکھے، موٹر سائیکلیں، واشنگ مشینیں، اے سی، موبائل فونز سمیت جہیز کا نام دیتے ہوئے ماہانہ اقساط کے نام پر شہریوں سے 35 سے 40 فیصد اضافی رقم کی وصولی کر لی جاتی ہے، اگر غلطی سے کسی صارف سے قسط لیٹ ہو جائے تو سودی دھندہ کرنے والے افراد کے کارندے صارفین کی دہلیز پر جا کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے سمیت چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور متاثرہ افراد کو اغواء کرکے یرغمال بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مکروہ دھندے سے وابستہ افراد کو مقامی پولیس کی مکمل آشیر باد حاصل ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے متاثرین کو اغواء کرکے زیر زمین مکانوں میں یرغمال بنا لیا جاتا ہے ، اس طرح اصل رقم اور سود کی ادائیگی کے بعد متاثرین کو آزاد کیاجاتا ہے ، شہری اپنی عزت نفس کو محفوظ بنانے کے لئے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ضلع جہلم کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ سودی کارروبار سے منسلک افراد کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے سود کا مکروہ دھندہ ختم ہو سکے ۔



