آئیسکو نے جہلم کے سرکاری نادہندہ اداروں کی لسٹ شائع کر دی

جہلم: آئیسکو نے سرکاری نادہندہ اداروں کی لسٹ شائع کر دی۔
چیف ایگزیکٹو آفیسرآئیسکو ڈاکٹر محمد امجد خان نے ہدایت کی ہے نوٹس اجراء کے ایک ہفتے میں بجلی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔تمام آپریشن سرکلز انچارج سرکاری اداروں سے ریکوری یقینی بنائیں۔
فہرست کے مطابق گورنمنٹ آف آزاد جموں کشمیر54ارب 86کروڑ20لاکھ، مسٹری آف ڈیفنس 5 ارب 29 کروڑ 50لاکھ،سی ڈی اے 4ارب 6کروڑ30لاکھ،سی ڈی اے (پاک سیکرٹریٹ)1 ارب6 کروڑ 50 لاکھ کی نادہندہ ہے۔
ہیلتھ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ جہلم1کروڑ80لاکھ،ٹی ایم اے پوٹھوہار ٹاؤن1کروڑ80لاکھ،ایف بی آر1کروڑ60لاکھ،ڈسٹرکٹ اینڈ تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال اٹک 1کروڑ60لاکھ،ٹی ایم اے جہلم 1 کروڑ 50 لاکھ، ڈائریکٹر جنرل سپیشل ایجوکیشن نے1 کروڑ40لاکھ روپے ادا کرنا ہیں۔
سی ڈی اے (کیبنٹ سیکرٹریٹ)11کروڑ60لاکھ،سی ڈی اے (چیئرمین سینٹ)6کروڑ80لاکھ،کینٹ بورڈ چکلالہ1ارب64کروڑ20لاکھ،کینٹ بورڈ راولپنڈی 25 کروڑ 60 لاکھ، واسا 96 کروڑ 70 لاکھ، منسٹری آف ریلوے 29کروڑ50لاکھ کی نادہندہ ہے۔
فیڈرل گورنمنٹ کے زیر انتظام ہسپتال27کروڑ90لاکھ،پی ڈبلیو ڈی 26کروڑ،وفاقی پولیس25کروڑ10لاکھ،ٹی ایم اے راول ٹاؤن19کروڑ، ٹی ایم اے مری16کروڑ20لاکھ،وزارت داخلہ14کروڑ30لاکھ، پنجاب پولیس13کروڑ50لاکھ روپے کی نادہندہ ہے۔
پارلیمنٹ لاجز11کروڑ80لاکھ،پنجاب جیل اینڈconvict Settlement 11کروڑ60لاکھ،وزارت صحت7 کروڑ 60 لاکھ، پی بی سی7کروڑ50لاکھ،منسٹری آف کلچر اینڈ سپورٹس7کروڑ50لاکھ،،جی ایم ہائیڈل 6 کروڑ 60 لاکھ، پنجاب ہیلتھ اینڈ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے 5کروڑ40لاکھ روپے ادا کرنے ہیں۔
چیف کمشنر اسلام آباد5کروڑ10لاکھ، منسٹر ی آف ایجوکیشن4کروڑ80لاکھ،ٹی ایم اے حسن ابدال4کروڑ60لاکھ،ایف آئی اے3کروڑ20لاکھ،ڈسٹرکٹ اینڈ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی2کروڑ80لاکھ،اے جی ای منٹینس (ڈی پی) 2 کروڑ 80 لاکھ کی نادہندہ ہے۔
منسٹری آف حج اینڈ اوقاف2کروڑ50لاکھ،ہیلتھ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ راولپنڈی2کروڑ40لاکھ،منسٹر ی آف انوائرمنٹ اینڈ یو آر بی2کروڑ30لاکھ، بلوچستان ہاؤس2کروڑ30لاکھ، کینٹ بورڈ اٹک2کروڑ10لاکھ،اسلام آباد ہائی کورٹ2کروڑ،ڈسٹرکٹ گورنمنٹ راولپنڈی1کروڑ90لاکھ کی نادہندہ ہے۔
میٹرلوجیکل ڈپارٹمنٹ1کروڑ20لاکھ، منسٹری آف لوکل گورنمنٹ1کروڑ20لاکھ،انٹیلی جنس بیورو1کروڑ، این ایچ اے1 کروڑ اور سندھ ہاؤس1کروڑ کے نادہندہ ہیں۔
آئیسکو انتظامیہ نے تمام نادہندہ سرکاری اداروں کے سربراہان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ذمے واجب الادا بجلی بلز ادا کریں۔



