دینہ: مین بازار میں ناقص تعمیراتی مٹیریل سے بننے والے نالے ٹوٹ پھوٹ کا شکار، تاجروں کا احتجاج

دینہ مین بازار میں لاکھوں روپے کے فنڈز سے بننے والے نکاسی آب کے نالے ناقص تعمیراتی کام اور غیر معیاری مٹیریل کے باعث مکمل ہونے سے پہلے ہی بارش کے پہلے جھٹکے میں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔

نالوں کی دیواریں گرنے لگیں، جس کے باعث بازار میں واقع دکانوں اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ جبکہ انتظامیہ کی خاموشی اور بے حسی سے تاجروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

تجاوزات کے خاتمے کے بعد دکانوں کے ساتھ بننے والے نالے رات کی تاریکی میں انتہائی ناقص مٹیریل سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ چند روز قبل ہی تاجروں نے اس ناقص کام پر احتجاج کیا تھا جس پر وقتی طور پر کام روکا گیا، تاہم اب ٹھیکیدار نے ایک مرتبہ پھر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں کو خاموشی سے غیر معیاری تعمیرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

بارش کے باعث ان نالوں کی حالت مزید بگڑ گئی ہے اور جگہ جگہ سے ان کی دیواریں گرنے لگی ہیں، جس سے نہ صرف نکاسی آب کا نظام متاثر ہوا بلکہ تاجروں کی دکانوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے جاری سست رفتار کام کے باعث ان کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے، خریدار بازار آنے سے کتراتے ہیں اور دکانوں کے باہر کیچڑ اور ملبے نے بازار کو بدحال بنا دیا ہے۔

تاجروں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ صفا عابد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس ناقص تعمیراتی کام کا نوٹس لیں، متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کریں، اور مین بازار کے نالوں کا کام معیاری انداز میں تیز رفتاری سے مکمل کروائیں تاکہ تاجروں کا روزگار بحال ہو سکے اور عوام کو بھی بنیادی سہولیات میسر آئیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button