جہلم میں غیر معیاری اور مضر صحت گائے، بکرے اور مرغی کے گوشت کی فروخت، فوڈ اتھارٹی خاموش

جہلم: پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کی غفلت و عدم دلچسپی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں حفظان صحت کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے غیر معیاری اور مضر صحت گائے، بکرے اور مرغی کے گوشت کی فروخت عروج پر، کوئی سرکاری ادارہ پوچھنے والا نہیں۔
جہلم شہرسمیت ضلع بھر کے مختلف مقامات سڑکوں کے اردگرد، گندے نالوں پرچھوٹا و بڑا اورمرغی کے گوشت کی فروخت جاری ہے، علی الصبح گوشت دکانوں کے باہر گندے نالوں کے اوپر لٹکا دیاجاتا ہے جبکہ گوشت کے حصے کرکے دکانوں کے تھڑوں پر سجا دیئے جاتے ہیں جہاں پر مکھیوں سمیت دیگر حشرات الارض ان گوشت پر بھنبھناتے دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب سڑکوں پر سے گزرنے والی گاڑیوں موٹر سائیکلوں سے اٹھنے والی دھول مٹی ، غلاظت وغیرہ بھی سارا سارا دن اس گوشت پر پڑتی ہے جس کے استعمال سے شہریوں میں موذی امراض پھیلنے کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔
مرغی فروش و قصاب کھلے گوشت کو ڈھانپ کر نہیں رکھتے اور نہ ہی ان دکانوں میں کام کرنے والے اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ لوگ پرانے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ان کے ہاتھ اورکپڑے گندگی سے بھرے ہوتے ہیں جس سے موذی جراثیم جنم لیتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔
شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مذکورہ صورتحال کا نوٹس لینے اور روزانہ کی بنیاد پر گوشت اور مرغی فروشوں کی دکانوں کی صفائی ستھرائی چیک کرنے اور دکانوں کے باہر جالیاں لگوانے کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہری حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق گوشت خرید کر استعمال کر سکیں اور بیماریوں سے بچ سکیں ۔



