جہلم: پلاسٹک کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے حکومتی احکامات ہوا میں اڑ دیئے گئے

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے کے حوالے سے حکومت پنجا ب کے احکامات ہوا میں اڑ دیئے گئے۔ ضلع بھر میں کسی بھی جگہ پر محکمہ ماحولیات کی جانب سے شاپنگ بیگز کے نقصانات بارے شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے واک کا انعقاد نہ کیا جا سکا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے 5 جون تک پلاسٹک بیگ پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کررکھے ہیں اور محکمہ ماحولیات کو پابند بنایا گیا ہے کہ پلاسٹک بیگز سے پیدا ہونے والی بیماریوں و ماحولیاتی آلودگی بارے آگاہی فراہم کرنے کے لئے واکس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے تاکہ شہریوں کو پلاسٹک بیگ کے استعمال سے پہنچنے والے نقصانات بارے آگاہی ہو سکے۔
محکمہ ماحولیات کے ضلعی افسران نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کو ہوا میں اڑتے ہوئے ضلع بھر میں کسی جگہ بھی آگاہی واکس یا سیمینارز کا انعقاد نہیں کیااور نہ ہی پلاسٹک بیگز سے پہنچنے والے نقصانات بارے کسی قسم کی مہم چلائی گئی ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ماحولیات کے ذمہ داران کی سرپرستی میں دکاندار قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں محکمہ ماحولیات کے ذمہ داران نے بااثر مالکان کے ساتھ معاملات طے کررکھے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ایڈوائزر صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ محکمہ ماحولیات کے ضلعی افسران کو شاپنگ بیگز سے پہنچنے والے نقصانات بارے آگاہی مہیا کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ شہری شاپر بیگ کے استعمال سے گریز کریں ۔



