جہلم میں رمضان کے پہلے عشرے میں مہنگائی کا طوفان، اشیائے خوردونوش من مانے داموں فروخت

جہلم: رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے روزہ داروں اور پسے ہوئے طبقات کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
انڈے، گوشت، کھجور، سیب اور دیگر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں جبکہ ذخیرہ اندوز اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والا مافیا جرمانوں سے بے خوف ہو کر من مانی قیمتیں وصول کر رہا ہے۔
جہلم شہر میں مرغی کے گوشت کا سرکاری نرخ 475 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم دکاندار 490 روپے میں صرف 800 گرام مرغی کا گوشت فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح لہسن فی کلو 20 روپے اور پیاز فی کلو 15 روپے تک مہنگا فروخت کیا جا رہا ہے۔
چند ہی دنوں میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 15 سے 20 روپے اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر بھی 26 روپے تک مہنگا کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب چینی کی فی کلو قیمت میں ڈیڑھ روپے تک کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دال مسور، خوردنی تیل، گھی، چاول اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی مہنگی اشیاء میں شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے رمضان المبارک میں عوامی ریلیف مشن کے تحت ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن کی ہدایت پر ماہِ صیام کے پیش نظر چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز سمیت تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں متحرک ہیں اور بازاروں، سہولت بازاروں اور کریانہ اسٹورز کی روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس دوران گراں فروشی پر سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں اور ذخیرہ اندوزوں و ناجائز منافع خوروں کو سختی سے خبردار کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں کنٹرول ریٹس پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گراں فروشی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر میکانزم کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے دکانداروں کے خلاف بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمات درج کروا کر سخت سزائیں دلوائی جائیں تاکہ رمضان المبارک کے تقدس کو برقرار رکھا جا سکے اور عام شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔



