ضلع جہلم میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد

جہلم: ڈپٹی کمشنر نے ضلع جہلم میں پتنگ بازی، دھاتی ڈور کی تیاری اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کی ہدایت پر ضلع بھر میں پتنگ بازی، دھاتی ڈور کی تیاری اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق پنجاب حکومت کی پالیسی کے تحت رواں سال 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منانے کی مشروط اجازت صرف لاہور میں دی گئی ہے جبکہ جہلم سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ پتنگ بازی یا پتنگ فروشی میں ملوث افراد کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے گی اور قانون کے مطابق 5 سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عوام کی سہولت اور شکایات کے فوری اندراج کے لیے ضلعی انتظامیہ نے کنٹرول روم بھی قائم کر دیا ہے۔ شہری کسی بھی جگہ پتنگ بازی یا ڈور کی فروخت کی اطلاع ضلعی کنٹرول روم کے نمبر 0544-9270256 پر دے سکتے ہیں تاکہ فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

دوسری جانب بسنت صرف لاہور تک محدود رکھنے کے فیصلے پر جہلم کے مختلف سماجی اور شہری حلقوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جہلم کے اندرون شہر کے بازاروں میں پتنگ سازی اور فروخت کا ایک بڑا کاروبار موجود تھا جو پابندیوں کے باعث تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس شعبے سے وابستہ متعدد کاریگر بے روزگار ہو گئے۔

شہری حلقوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل اپنے شہر کی اس ثقافتی روایت سے تقریباً ناواقف ہو چکی ہے جبکہ ماضی میں بسنت کے موقع پر شہر کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جایا کرتی تھیں۔ بعض حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور مقامی ہنرمندوں کے روزگار کے لیے متبادل اقدامات کرے تاکہ ثقافتی روایات اور مقامی معیشت دونوں کو سہارا مل سکے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون سے ضلع جہلم کو خطرناک دھاتی ڈور اور پتنگ بازی جیسے جان لیوا رجحانات سے پاک رکھنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے اور قانون پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button